قربانی: اہمیت، حکم اور پیغام
قربانی: اہمیت، حکم اور پیغام

انعام الحق قاسمی
ریسرچ اسکالر آئی ٹی ٹی آئی، علی گڑھ
قربانی دنیا کے تمام قدیم مذاہب میں اللہ تعالیٰ کے تقرب کا بڑا ذریعہ رہی ہے۔ قربانی پرستش کا منتہائے کمال ہے۔ قربانی کا جذبہ تخلیقِ انسانیت کے آغاز ہی سے کار فرماہے۔ جانوروں کو قیام یا سجدے کی حالت میں اس احساس کے ساتھ اپنے پروردگار کی نذر کر دیتے ہیں کہ در حقیقت ہم اپنے آپ کو اس کی نذر کر رہے ہیں۔ یہی نذر اسلام کی حقیقت ہے، اس لیے کہ اسلام کے معنی ہی ہیں کہ سرِ اطاعت جھکا دیا جائے اور آدمی اپنی عزیز سے عزیز شے حتیٰ کہ اپنی جان بھی حق تعالیٰ کے حوالے کردے۔
قربانی اسلام کے شعائر میں سے ہےاور یہ سلسلہ انسانی دنیا کی ابتدا سے ہی چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید سورہ مائدہ میں حضرت آدم ؑکے بیٹوں ہابیل و قابیل کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ دونوں نے حق تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ غلہ پیش کیا، تو ہابیل کی قربانی قبول ہوگئی۔
سورہ حج کی چوتیسویں آیت کے مطابق قربانی کا عمل ہر امت میں مقرر کیا گیا ہے؛ البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔ جو اخیر میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی کہ یہ حضرت ابراہیمؑ کی یادگار ہے۔
اللہ کے رسولﷺ کے عمل سے بھی اس فریضےکی عظمت ظاہر و باہر ہوتی ہے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ دس سال مدینہ میں مقیم رہے اور ہر سال قربانی فرماتےرہے۔ (سنن ترمذی ) حضرت انس سے مروی ہے کہ حضورﷺ سیاہ اور سفید رنگ اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے تھےاور اپنے پاؤں کو ان کی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری) نبی کریمﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایک وقت میں سو اونٹوں کی قربانی فرمائی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ نے خود اپنے دستِ اقدس سے سو میں سے تریسٹھ اونٹوں کو ذبح فرمایا، جب کہ باقی کے لیے حضرت علی ؓ کو ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔(صحیح بخاری)
قرآن مجید کی رو سے قربانی اسلامی شعائر یعنی علامات میں سے ہے، جس کے ذریعے اسلام کی شان وعظمت نمایاں ہوتی ہے۔ سورہ حج میں ارشاد باری ہے کہ’’ جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے تو یہ (ادب) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے‘‘ اور ’’قربانی کے جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے ان میں بھلائی ہے‘‘۔
شعائران علامات کو کہا جاتا ہے، جن کو دیکھ کر کوئی دوسری چیز یاد آئے۔ اللہ تعالیٰ نے جو عبادتیں واجب قرار دی ہیں بالخصوص جن مقامات پر حج کی عبادت مقرر فرمائی ہے، وہ سب اللہ کے شعائر میں داخل ہیں، اس لیے ان کی تعظیم ایمان کا تقاضا ہے۔
جس طرح قربانی کاحق ادا کرنے والے کے لیےبڑے انعامات کی خوش خبری دی گئی ہے، اسی طرح اس سے غفلت برتنے والوں کے لیے بھی بڑی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آقاﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس کے پاس وسعت ہو اور وہ اس کے باوجود بھی قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ )
جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت کے باوجود بھی قربانی ادا نہیں کرتے، وہ آنکھیں کھولیں! اور اپنے ایمان کا جائزہ لیں! اوّل یہی خسارہ کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے،پھر اس سے بڑھ کر حضورپرنورﷺ ناراض ہو جائیں اور عیدگاہ میں حاضری سے روک دیں، سوچیں کہ ایسے شخص کا کیا ہو گا؟ عید گاہیں اور مساجد اللہ تعالیٰ کی محبوب جگہیں ہیں، جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہٰی سے عفو و کرم کی بارشیں ہوتی ہیں، یہاں کی حاضری سے بدنصیب سے بدنصیب ہی کو روکا جا سکتا ہے، اس لیے بخل سے کام نہ لیجیے، جس کا یہ مال دیا ہوا ہے، قربانی کا حکم بھی اسی کی جانب سے ہے۔ لہذا سلامتی کے حصول کے لیے رب کےحکم کی تعمیل کیجیے۔
ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’قربانی والے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدمی کا کوئی بھی عمل جانور کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں، سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کے مقام کو پا لیتا ہے، اس لیے تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو۔ (سنن ترمذی)
حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپﷺ نے جواب میں فرمایا: یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے قربانی کے جانور کےہر بال کے بدلے میں تمہیں ایک نیکی ملے گی۔ صحابہؓ نے پھر عرض کیا: یارسول اللہ (جن جانوروں کے بدن پر اُون ہے) اُن کا کیا حکم ہے؟ (کیا اس پر بھی کچھ ملے گا) آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ان کے ہر بال کے عوض میں نیکی ملے گی۔(الترغیب والترہیب) حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم قربانی کرو اور ان قربانیوں کے خون پر اجروثواب کی امید رکھو، اس لیے کہ ان کا خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی حفظ وامان میں چلا جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب )
اس سے بڑھ کر اور کیا ثواب ہو گا کہ ایک قربانی کرنے سے ہزاروں لاکھوں یعنی بےشمار نیکیاں مل جائیں۔ دنبے اور بھیڑ کے بدن پر لاتعداد بال ہوتے ہیں، اگر کوئی صبح سے شام تک گننا چاہے تو بھی گن نہ پائے، توسوچیں کہ ہمارے پندرہ بیس ہزار کے مقابلے میں کتنی بے حساب نیکیاں ہوئیں، اس قدر اجروثواب کو دیکھ کر خوب بڑھ چڑھ کر قربانی کرنی چاہیے۔واجب تو واجب ہے، اگر وسعت ہو تو نفلی قربانی بھی کرنی چاہیے۔ یعنی اگر اللہ جل شانہ نے مالی وسعت عطا فرمائی ہے، تو جہاں اپنی طرف سے قربانی کریں، وہاں اپنے مرحوم والدین بہن بھائی کے ایصال ثواب کےلیے بھی قربانی کریں اور کیا ہی اچھا ہو کہ محسن اعظمﷺ کی جانب سے اور آپ کے اصحاب و اہل بیتؓ کی طرف سے بھی قربانی کی جائے ۔
قربانی کا پیغام ہے کہ یہ عمل ہمیں حضرت ابراہیم ؑ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اللہ کی رضا کے لیے اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیلؑ کو قربان کرنے کا عزم کیاتھا۔ اس واقعے نے قربانی کے حقیقی مقصد اور اس کی روح کو ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔
قربانی کے ذریعے ہم اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سب کچھ اللہ کا ہے اور ہمیں اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے۔ قربانی ہمیں سماجی برابری اور انصاف کا بھی درس دیتا ہے۔ اس کے گوشت کے تقسیم کا نظام اس بات کی علامت ہے کہ اسلام میں دوسروں کی بھلائی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا کتنا اہم ہے۔ اس طرح یہ معاشرتی انصاف اور بھائی چارے کی اہمیت سے روشناس کراتا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور ان نعمتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا نہایت ضروری ہے۔ قربانی ہمیں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر کرنا اور ان کا صحیح استعمال کرنا سکھاتا ہے۔
قربانی کا عمل ہمیں اللہ کی رضا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا درس دیتا ہے۔ یہ ہمیں انسانیت کی خدمت، ایثار، شکرگزاری، اور سماجی برابری کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم قربانی کے اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں؛ تاکہ ہم بہتر انسان بن کرایک بہترین معاشرہ تشکیل دےسکیں۔
حق تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ صاحب استطاعت حضرات کو قربانی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اسے اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
مزید پڑھیں:
(١) قربانی کی اہمیت
تبصرے