ہندوستان کی آزادی اور مسلمان
ہندوستان کی آزادی اور مسلمان
ازقلم: اسعد اقبال یکہتوی
ہندوستان میں مسلمانوں نے جس رواداری کے ساتھ حکومت کی اسی سبب وہ ایک طویل عرصے تک ہندوستان پر قابض رہے، انگریزوں نے اپنی چالاکی سے مسلمانوں سے حکومت چھین لی ، ١٨٥٧عیسویں میں ہندو اور مسلم دونوں ہی انگریزوں کے خلاف کھڑے ہو گئے انگریزوں نے اس جنگ آزادی کو غدر کا نام دیا ۔ اس جنگ آزادی میں تین ہزار مسلمان انڈمان کے جزائر میں نظر بند کیے گئے اور پانچ لاکھ مسلمانوں کو سزائے موت دی گئی ، چالیس لاکھ خدائی خدمتگاروں نے جنگ آزادی کی تحریک میں قربانیاں دیں تین سو خدائی خدمتگار اپنے سینے پر گولیاں کھا کر قصہ خوانی بازار میں شہید ہوئے ۔ اسی جنگ آزادی کی ناکامی نے بہادر شاہ ظفر کو جلا وطنی کے لیے مجبور کر دیا۔ مولانا شاہ عبدالقادر لدھیانوی اور مولانا شاہ فضل حق خیرآبادی نے اس مسلح جنگ میں رہنمائی کے فریضہ انجام دیے، اس ناکامی کے بعد لال قلعہ انگریزوں کے ہاتھ آگیا ، شہزادوں کو قتل کر دیا گیا ، جامع مسجد کو فروخت کرنے کی تجویز رکھی گئی ، بیگمات کو بے حرمتی کی زندگی گزارنی پڑی ۔
١٨٥٧ء میں مولانا شاہ عبدالعزیز لدھیانوی ، مولانا شاہ عبداللہ اور مولانا شاہ محمد لدھیانوی کو پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا ۔
١٨٥٧ء میں مولانا اسماعیل حسین شکوہ آبادی ، مفتی عنایت احمد کاکوری ، منشی علی کریم اور مولانا ولایت علی کو قید کر لیا گیا۔
١٨٦٠ء میں مولانا شاہ عبدالعزیز ، مولانا شاہ عبداللہ ، جناب چودھری اور محمد شفیع صاحب دہلوی کو عمر قید کی سزا دی گئی اور جیل ہی میں ان حضرات کا انتقال ہوا۔
١٨٦٥ء میں پٹنہ کے مولانا احمد اللہ صادق پوری کو موت کی سزا سنادی گئی ، اس کے بعد میں کالے پانی کی سزا میں بدل دیا گیا اور وہیں ان کی موت ہوئی۔
١٨٦٦ء میں انبالہ کے مولانا محمد یحییٰ صادق پوری ، مولانا عبد الرحیم صادق پوری ، قاضی میاں جان، میاں عبد الغفار اور مولانا جعفر تھانیسری کو کالے پانی کی سزا میں انڈمان بھیج دیا گیا اور سب کو اسی سر زمین پر موت کی نیند دی گئی، کالے پانی کی سیکولر جیل آج بھی ان شہداء کی یاد دلاتی ہے ۔
١٨٧٠ ء میں مالدہ کے مولوی امیر الدین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی جائیداد ضبط کر لی گئی۔
١٨٧٠ء ہی میں راجہ ابرہم منڈ کو بھی عمر قید کی سزا دی گئی اور ان کی جائیداد ضبط کر لی گئی ، انہوں نے قید کے وقت یہ شعر پڑھا:
نہ مسجد میں نہ بیت اللہ کی دیواروں کے سائے میں
نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں
سیاسی شیوخ کے نمایاں رہنماؤں میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کا اسم گرامی پیش پیش ہے۔ ان کی اقتدا کرنے والوں میں سب سے اہم نام : شاہ عبدالرحیم رائے پوری کا ہے ، جن کا عرصہ ١٩١٠ ء سے ١٩١٩ء تک ہے۔
اس صدی کا آغاز شیخ الہند مولانا محمود حسن اسیر مالٹا کی سرگرمیوں سے ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف غیر ملکی سامراج کو ایسے وقت للکارا جب کہ ملک کی آزادی کے لیے آواز نکالنا موت کو دعوت دینا تھا ، بلکہ اپنے ساتھ ایک ایسا طائفہ بھی تیار کیا جس نے مولانا محمود حسن کے پیغام کو آگے بڑھایا اس سلسلے میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی کا اسم گرامی نمایاں حیثیت رکھتا ہے ، شیخ الہند ملک میں تحریک آزادی کے سب سے بلند قامت، سر اور دھڑ کی بازی لگا کر ملک کو آزاد کرانے والوں میں سے ایک تھے۔



تبصرے