قربانی کی اہمیت
قربانی کی اہمیت
اسلام میں قربانی کی بڑی اہمیت اور بڑا مقام ہے، یہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو امت محمدیہ میں رائج ہے قربانی ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ ہماری نماز، قربانی، جینا اور مرنا سب اللہ کے لئے ہے اگر اسلام کی خاطر جان و مال اور نفس کی قربانی کی ضرورت پیش آجائے تو مسلمان اس کے لئے ہمہ وقت اور ہر صورت میں تیار رہیں اور عمل و کردار سے یہ واضح کر دیں کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض رضائے الہی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا حتی کہ اپنے نور نظر اور لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حلقوم پر چھری پھیر دی تھی اسی طرح یہ بھی سب کچھ قربان کر دیں گے لیکن اسلام کی عزت و ابرو پر بال برابر بھی فرق نہیں آنے دیں گے۔
قربانی ایک سبق بھی دیتی ہے جو ہر مسلمان کو درس عزت اور دعوت فکر دیتی ہے آج مسلمان ہر جگہ ذلت و نکبت کی زندگی گزار رہا ہے، ان کے عزت و عفت سے جگہ جگہ کھلواڑ کیا جارہا ہے، وہ مارے اور ستائے جارہے ہیں، کہیں ان کی تہذیب اور مخصوص کلچر پر حملہ ہے، کہیں ان کے دین وملّت پر یلغار ہے اور کہیں ان کی جان و مال اور عزت و ناموس خطرہ میں ہے۔ فرقہ پرست عناصر ہمیشہ انہیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں اور جگہ جگہ ان دھمکیوں کو عملی شکل بھی دی جارہی ہے، اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جان کی قربانی سے جی چرانا، آج بھی مسلمان جان کی قربانی پر اتر آئیں اسلامی حمیت اور دینی غیرت سے ان کی رگ پھڑک اٹھے تو پھر کوئی بھی طاقت نہیں نہیں جو ان کا مقابلہ کر سکے۔ ہر جگہ یہی فائز المرام رہیں اور کامیابیاں ان کے قدم چومے گی ۔
یاد رکھیے! اگر یہی حال رہا تو پھر کوئی بھی دعا ہم کو ذلت سے نہیں بچا سکتی، ہمارے حق میں کوئی معجزہ کارآمد نہیں ہو سکتا پھر یہ بھی کہ آنے والا مؤرخ کبھی بھی ہم کو معاف نہیں کر سکتا وہ بے لاگ ہماری زندگی بھر تبصرہ کرے گا اور یہ لکھے گا کہ پندرہویں صدی ہجری کے مسلمان اپنے علوم و فنون اور تمام تر مسائل وذرائع کے باوجود بھی ذلیل و خوار رہے اور اس میں ایثار و قربانی اور جذبۂ فدائیت کا نام و نشان تک نہ تھا، اس لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کا رخ موڑ دیں اور اس پر قربان ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔ یہ صورتحال جب ہمارے اندر پیدا ہو جائے گی تو نہ ہم ذلیل ہوگے اور نہ ہماری آواز صد الصحرا ثابت ہو گی تو ہم ہر جگہ کامیاب رہیں گے اور ایک مثالی زندگی گزار رہیں گے جس پر دنیا عش عش کرے گی اور انے والے نسل بھی فخر کرے گا۔

تبصرے