طریقۂ نماز عیدین
طریقۂ نماز عیدیناسعد اقبال یکھتوی
جشن و تہوار منانا انسانی فطرت کا تقاضا ہے، اسلام میں بھی تہوار منانے کے لیے سال میں دو خاص دن مقرر کیے گئے ہیں_ ایک"عیدالفطر" دوسرا"عید الاضحی" عیدالفطر رمضان المبارک جیسے بابرکت و مقدس اور روحانیت سے بھرپور مہینہ میں روزہ اور عبادت کی توفیق ملنے اور خیر و عافیت کے ساتھ
مکمل ہونے پر شوال کی پہلی تاریخ کو بطور شکرانہ منائی جاتی ہے _
عیدالفطر کی نماز واجب ہے اس کی ابتدا ١ ھجری یا ٢ ھجری میں ہوئی_
جمعہ کی نماز کے وجوب و صحت کے لئے جو شرائط ہیں وہی عیدین کے لئے بھی ہیں_
البتہ جمعہ کی نماز کے لیے نماز سے پہلے خطبہ فرض اور شرط ہے اس کے بغیر نماز جمعہ نہیں ہوتی _ اور عیدین کے لئے خطبہ سنت ہے_(نسائی صلوٰۃ العیدین قبل الخطبۃ)
طریقہ نماز عیدین
نماز سے پہلے نیت کرنا ضروری ہے_ نیت کا معنی ہے دل میں ارادہ کرنا_ لہذا دل میں یہ ارادہ کرے کہ میں اس امام کے پیچھے عیدالفطر یا عید الاضحی کی دو رکعت عیدالفطر واجب نماز چھ زائد تکبیروں کے ساتھ پیچھے اس امام کے رخ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر، پھر تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھ کر ثنا پڑھے، اس کے بعد دو تکبیروں میں کان تک ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دے( ہر تکبیر کے بعد تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے برابر ٹہرے) پھر تیسری تکبیر کے وقت کان تک ہاتھ اٹھا کر باندھ لے_ امام قرأت کرے اور مقتدی خاموشی کے ساتھ سنیں اور قاعدہ کے مطابق ایک رکعت پوری کرلی جائے_ پھر دوسری رکعت میں امام پہلے قرأت کرے اس کے بعد تین تکبیریں کہی جائیں اور ہر مرتبہ کان تک ہاتھ اٹھا کر چھوڑ دیا جائے اور چوتھی تکبیر پر بے غیر ہاتھ اٹھائے رکوع میں چلا جائے اور قاعدہ کے مطابق نماز پوری کرلی جائے،نمازعیدین کے بعد خطبہ دینا سنت اور اس کا سننا واجب ہے۔۔۔
تبصرے