شبِ براءت: رحمت کی رات یا رسموں کا بوجھ؟` نقوش یکہتوی
`شبِ براءت: رحمت کی رات یا رسموں کا بوجھ؟` نقوش یکہتوی شعبان کی پندرھویں رات… یہ وہ ساعت ہے جب آسمان پر رحمت کی دستک سنائی دیتی ہے، جب زمین پر بسنے والے گناہ گاروں کے لیے درِ مغفرت کھلتا ہے اور جب ربِ کائنات بندوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ہے کوئی معافی مانگنے والا؟ ہے کوئی ضرورت پیش کرنے والا؟ یہ رات شور کی نہیں، یہ رات چراغاں کی نہیں، یہ رات رسموں، ضیافتوں اور ہجوم کی نہیں یہ رات خاموشی، ندامت اور لوٹ آنے کی رات ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے اس رات کو عبادت سے زیادہ روایتوں، قصّوں اور من گھڑت باتوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ `دین دلیل سے چلتا ہے، جذبات سے` نہیں قرآن کھول کر دیکھیے، سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کیجیے، صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں ورق ورق پڑھ لیجیے کہیں یہ نہیں ملتا کہ شبِ براءت کے لیے کوئی مخصوص نماز، کوئی خاص جماعت، یا کوئی لازمی رسم مقرر کی گئی ہو۔ عبادت کا دروازہ کھلا ہے، مگر عبادت کی صورت متعین کرنا بغیر دلیل کے وہیں سے بدعت کا دروازہ کھلتا ہے۔ `حلوہ، ملیدہ اور تاریخ کی ناواقفیت` ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ اس رات حلوہ بنانا گویا لاز...