سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں
نقوشِ یَکْہَتْوِی 
سال نو کی تقریبات اور ہماری ذمہ داریاں
نقوشِ یَکْہَتْوِی 
دنیا بھر میں سال نو کے آغاز پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں سے بعض تقریبات میں غیر اسلامی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کو اس موقع پر خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان غیر شرعی اعمال میں ملوث نہ ہوں جو ان کی دنیا اور آخرت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ سال نو کا موقع صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ ہمیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے گزشتہ سال کو کیسے گزارا اور نئے سال میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ ہم اس مضمون میں قرآن و حدیث کی روشنی میں ان مسائل کا جائزہ لیں گے۔

1. وقت کی قدر: اسلامی تعلیمات میں وقت کی اہمیت

اسلام میں وقت کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر اس کی قدر و قیمت بیان کی ہے:

"وَالْعَصْرِ، إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ"(سورۃ العصر: )
"زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔"

  یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کے پاس وقت ایک قیمتی اثاثہ ہے اور جو لوگ اسے ضائع کرتے ہیں وہ دراصل نقصان اٹھاتے ہیں۔ سال نو کے موقع پر ہمیں اپنے گزرے ہوئے وقت کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے کس طرح اپنے وقت کا استعمال کیا۔ کیا ہم نے اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں لگایا یا دنیاوی لذتوں میں ضائع کیا؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی دولت کو غربت سے پہلے، اپنے فارغ وقت کو مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔" (مستدرک حاکم)

یہ حدیث ہمیں وقت کی اہمیت پر غور کرنے اور اس کا بہترین استعمال کرنے کی نصیحت کرتی ہے۔

2. سال نو کے غیر اسلامی مفاسد: فحاشی اور بے حیائی سے بچاؤ

آج کل سال نو کی تقریبات میں اکثر بے حیائی اور غیر اسلامی سرگرمیاں دیکھی جاتی ہیں، جیسے ناچ گانا، شراب نوشی اور دوسری غیر اخلاقی حرکات۔ یہ تمام سرگرمیاں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"اور بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جاؤ، جو ان میں سے ظاہر ہوں اور جو پوشیدہ ہوں۔" (سورۃ الأنعام: )

یہ آیت واضح طور پر ہمیں بے حیائی سے بچنے کی تنبیہ کرتی ہے۔ ایسے مواقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور ایسی محافل سے دور رہیں جو فحاشی اور بے حیائی کا ذریعہ ہوں۔

3. خود احتسابی اور توبہ: سال نو کی حقیقی روح

سال نو کا موقع ہمیں خود احتسابی اور توبہ کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم نے گزشتہ سال میں کیا غلطیاں کیں اور ان سے کیا سبق سیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"ہر ابن آدم خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔" (ترمذی)

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

"اے ایمان والو! اللہ سے سچی توبہ کرو، شاید تمہاری نجات ہو جائے۔(سورۃ التحریم: )

ہم سب انسان غلطیوں کا پتلا ہیں، لیکن بہترین انسان وہ ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔ سال نو کا آغاز ہمیں ایک نئی امید دیتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور نیک راستے پر چلنے کا عزم کریں۔

4. سال نو کی تقریبات اور ہماری ذمہ داریاں

اسلامی نقطہ نظر سے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف خود نیک راستے پر چلیں بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیں اور برائی سے روکیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔" (سورۃ آل عمران: )

یہ آیت مسلمانوں کو اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی اصلاح کریں بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی دعوت دیں۔ سال نو کے موقع پر ہمیں اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے کہ ہم لوگوں کو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں بہتر زندگی گزارنے کی طرف رہنمائی کریں۔

5. والدین کی ذمہ داری: بچوں کی تربیت

والدین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو غیر اسلامی سرگرمیوں سے دور رکھیں اور ان کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کریں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔" (سورۃ التحریم: )

اس آیت میں والدین کو خاص طور پر حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت کریں تاکہ وہ گمراہی اور بدعات سے بچ سکیں۔

نئے سال کا صحیح استعمال

سال نو کا آغاز ایک بہترین موقع ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں اور نئے سال میں اپنی اصلاح کی نیت سے قدم رکھیں۔ ہمیں فضولیات اور غیر اسلامی سرگرمیوں سے بچنا چاہیے اور اپنے وقت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اللہ کی رضا کے حصول میں لگانا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھالیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔

اللہ ہمیں اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے گزارنے اور وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں