میڈیا کا بدلتا منظرنامہ قسط:2

میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 2:  میڈیا کا زوال: کیا واقعی سچائی مر رہی ہے؟
تاریخ: 31 اکتوبر 2024 بروز جمعرات
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 2: میڈیا کا زوال: کیا واقعی سچائی مر رہی ہے؟
تاریخ: 31 اکتوبر 2024 بروز جمعرات

جیسا کہ ہم نے پچھلی قسط میں میڈیا کے ماضی کی صداقت کی بات کی، اب ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ آج کے دور میں سچائی کا کیا حال ہے؟ کیا واقعی سچائی مر رہی ہے، یا یہ محض ایک عارضی کیفیت ہے؟

میڈیا کے زوال کی سب سے بڑی وجہ تجارتی مفادات ہیں۔ ماضی میں، صحافت کا مقصد عوام کی خدمت کرنا اور انہیں درست معلومات فراہم کرنا تھا، لیکن آج کل یہ ایک منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔ بڑے میڈیا ہاؤسز اب عوامی مفاد کو چھوڑ کر اپنے مالی مفادات کی جانب زیادہ متوجہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں، خبروں کی دیانتداری میں کمی آ گئی ہے۔

میڈیا کی دنیا میں سچائی کی جگہ اب جھوٹ اور افواہوں نے لے لی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ سنسنی خیز خبروں کی طلب زیادہ ہے۔ عوام اب صرف معلومات نہیں چاہتے بلکہ وہ ایسی کہانیاں چاہتے ہیں جو انہیں متاثر کریں، چاہے وہ حقیقت پر مبنی ہوں یا نہ ہوں۔ اس صورت حال نے میڈیا کو مجبور کیا ہے کہ وہ غیر حقیقی اور مبالغہ آمیز کہانیاں پیش کرے تاکہ وہ ناظرین کو اپنی جانب متوجہ رکھ سکے۔

ایک اور پہلو ہے سوشل میڈیا کا۔ انٹرنیٹ کی ترقی نے ہر فرد کو ایک صحافی کی حیثیت سے پیش کر دیا ہے، جہاں کوئی بھی اپنی بات کہہ سکتا ہے۔ اگرچہ یہ آزادی اہم ہے، لیکن اس کے نتیجے میں جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی اکثر معلومات کی تصدیق نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے عوام میں بے یقینی اور بے اعتمادی پیدا ہو رہی ہے۔
یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ عوام کا سچائی کے حوالے سے رویہ بھی بدل چکا ہے۔ آج کے دور میں، بہت سے لوگ سچائی کو اپنے نظریات اور عقائد کے مطابق قبول کرتے ہیں۔ اگر کوئی خبر ان کے مفادات یا نظریات کے خلاف ہو تو وہ اسے جھوٹ ماننے میں دیر نہیں لگاتے۔ یہ رویہ سچائی کی تلاش میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ آج کا میڈیا صرف معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک معرکہ بن چکا ہے جہاں سچائی اور جھوٹ کی جنگ جاری ہے۔ ہم سب کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے سچائی کی خاطر جدوجہد نہ کی تو ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھیں گے جہاں صرف جھوٹ کا راج ہوگا۔

(اگلی قسط میں: جھوٹی خبروں کا اثر: معاشرتی اعتبار کا زوال)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں