میڈیا کا بدلتا منظرنامہ: قسط 1

 میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر :1:  ماضی کی صداقت، حال کی دھندلاہٹ
تاریخ: 30 اکتوبر 2024 بروز بدھ
 میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر :1: ماضی کی صداقت، حال کی دھندلاہٹ
تاریخ: 30 اکتوبر 2024 بروز بدھ
 
     صحافت کا شعبہ ہمیشہ سے معاشرتی شعور بیدار کرنے کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ ماضی میں، جب خبریں محض معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ سچائی کے ساتھ جڑی ذمہ داری سمجھی جاتی تھیں، تب ہر ایک لفظ میں صداقت کا عکس ہوتا تھا۔ اخبارات کے صفحات اور ریڈیو کی لہروں پر نشر ہونے والی خبریں ایسی تھیں جو دلوں کو متاثر کرتی تھیں اور ذہنوں میں غور و فکر کے نئے دروازے کھولتی تھیں۔

پرانے وقتوں کی خبروں میں سنسنی خیزی کا کوئی دخل نہیں ہوتا تھا۔ ہر خبر کی بنیاد حقائق پر ہوتی اور ہر جملہ دیانت داری سے پیش کیا جاتا۔ صحافی ایک مقدس مشن کا حصہ سمجھے جاتے تھے، اور ان کی محنت اور سچائی کو معاشرت میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اُس دور میں خبریں عام عوام کی آواز ہوا کرتی تھیں اور اُن کا مقصد فقط معاشرتی آگاہی اور بہتری تھا۔

مگر آج کے دور میں میڈیا کا چہرہ بدل چکا ہے۔ خبریں سچائی کے بجائے سنسنی، جھوٹ اور افواہوں کا گڑھ بن چکی ہیں۔ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز، جو کبھی سچائی کے علمبردار ہوا کرتے تھے، آج وہی خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی اولین ترجیح اب سچائی کی بجائے ٹی آر پی کا حصول بن چکی ہے۔

آج کا میڈیا ایسی خبروں کو فروغ دیتا ہے جو سننے والے کو جذباتی طور پر متاثر کرے، چاہے وہ خبر حقیقت پر مبنی ہو یا نہ ہو۔ جھوٹے واقعات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ اصل حقیقت پس پردہ چلی جاتی ہے۔ سیاسی دباؤ اور ذاتی مفادات کی وجہ سے سچائی کی جگہ جھوٹ اور فریب نے لے لی ہے۔

پہلی قسط میں ہم نے میڈیا کے بدلتے کردار کا ایک اجمالی جائزہ لیا ہے۔ آئندہ قسطوں میں، ہم اس تبدیلی کی وجوہات اور اس کے معاشرتی اثرات کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

(اگلی قسط میں: میڈیا کا زوال: کیا واقعی سچائی مر رہی ہے؟)


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں