اولاد کی تعلیم و تربیت

 اولاد کی تعلیم و تربیت 

از قلم. محمد جاوید 

متعلم. دارالعلوم وقف دیوبند 

    

اولاد کی تعلیم و تربیت

ہر زمانے کے اپنے تقاضے اور ہر نسل کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی زندگی اور طور طریقے بدلتے رہتے ہیں پچاس سال پہلے زندگی کا جو رنگ تھا وہ آج نہیں ہے اور جو صفات و کمالات پچھلے لوگوں میں تھے وہ موجودہ لوگوں میں نہیں ہیں رعایت, مروت, لحاظ, رواداری, حسن سلوک, انسیت و ہمدردی جو گزرے لوگوں میں پائی جاتی تھی وہ عنقا ہے ڈھونڈنے سے بھی ایسے لوگ نہیں ملتے جن میں پچھلوں کی سی ادائیں اور روایتیں دیکھنے میں آتی ہوں, ایسے عالم میں والدین کے لئے ایک مشکل یہ کھڑی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی عمارت کن بنیادوں پر قائم کریں. 
یہ مسلمہ اصول ہے اور ماہرین نے بھی اس سے اتفاق کیا ہے کہ بچے کی تعلیم کا سب سے پہلا گہوارہ ماں کی گود ہے ماں کی زندگی کے اثرات بچے پر لازما مرتب ہوتے ہیں اس کا رکھ رکھاؤ, اس کا سلیقہ, اس کی گفتگو, اس کی عادات بچے میں منتقل ہوتی ہیں اور بچہ غیر محسوس طریقہ پر ان اثرات کو قبول کرتا ہے, 
    
خدا نخواستہ اگر ماں بدزبان اور بدکلام ہے تو بچے میں بھی بدزبانی اور بدکلامی کے اثرات لوٹیں گے, اور وہ بھی اسی سمت میں اپنی زندگی اور بچپن کا سفر طے کرے گا, 
شیخ سعدی نے بیان کیا ہے کہ جس درخت نے ابھی جڑ پکڑی ہے اسے ایک آدمی جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے, لیکن اگر درخت کو چند سال گزر گئے اور اسکی جڑیں اچھی طرح زمین میں پھیل گئیں تو چند آدمیوں کی طاقت سے بھی اس درخت کو اپنی جگہ سے ہلانا ممکن نہیں یعنی ابتداء بچہ بری صحبت میں رہ کر یا گھریلو ماحول سے متاثر ہوکر جو چیزیں اختیار کرتا ہے ان کو اول ہی میں سدھارنے کی فکر کی جائے تو سدھرنے کے سو فیصد امکانات ہیں, لیکن اگر اس کی جانب سے لاپرواہی کی گئی یا صرف نظر سے کام لیا گیا تو وہ عادت پکی ہو جائے گی اور اس کو چھڑانا مشکل نہیں ناممکن ہو جائے گا. 
بچوں کو دینی ماحول دینے کی ضرورت ہے ان کی دینیات کی تعلیم کا نظم ہونا چاہئے, قرآن کریم پڑھانے کا اہتمام کرنا چاہئے, ان کے عقائد کی پختگی اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے واقف کرانے کو لازمی جاننا چاہیے انہیں بتانا چاہیے کہ ایک مسلمان کی زندگی کیا ہوتی ہے سچائی کسے کہتے ہیں, جھوٹ کی ہلاکتیں کیا ہیں, دیانت داری کی اہمیت کیا ہے, بے ایمانی کے کیسے نتائج ہیں, پھر یہ بھی اولاد کی تعلیم و تربیت کا ایک گوشہ ہے کہ ہر اولاد میں مساوات کا درجہ قائم رہے, یہ نہ ہو کہ ایک کے لئے سب کچھ فراہم ہو اور دوسرے کو ہر چیز سے محروم کر دیا جائے, ایک کو سینے سے لگایا جائے اور دوسرے کی جانب پیٹھ کرکے کھڑا ہوا جائے, ایک کو اعلیٰ تعلیم دلائی جائے، اس کے تعلیمی رجحانات کا لحاظ رکھا جائےاور دوسرے کو معمولی تعلیم گاہوں میں ڈال دیا جائے ایک کی ہر فرمائش پوری ہو اور دوسرے کی جائز ضرورتوں پر بھی کان نہ دھرا جائے, یہ اسلام کی مساوات تعلیم کے خلاف ہے اور یہ مساوات اولاد کے درمیان بھی باقی رکھنے کی ضرورت ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ” اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو ” 
اس مختصر سے جملہ میں ہر آدمی اور والدین کے لئے ایک بڑی نصیحت موجود ہے کہ وہ اولاد کے درمیان نا انصافی نہ کریں یہ نا انصافی تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی ہے ان کے حقوق کے تحفظ میں بھی اور پھر آگے چل کر تقسیم مال و جائیداد میں بھی ہے..

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں