جہیز کی زدمیں ایک اور دوشیزہ
جہیز کی زدمیں ایک اور دوشیزہ
اسعد اقبال یکہتوی متعلم دارالعلوم وقف دیوبند
١٥/رجب المرجب ١٤٤٢ھ مطابق ٢٨/فروری ٢٠٢١ء بروز یکشنبہ (اتوار) کا معاملہ ہے: جب میں دہلی کے سفر پر تھا۔ اچانک واٹس ایپ گروپ میں میسج آیا کہ عائشہ عارف خان نے خودکشی کر لی ہے۔
اس خبر پے یقین نہیں ہوا؛ تحقیقات شروع کردی، معلوم ہوا کہ واقعی یہ سچا معاملہ ہے: اس لڑکی نے خودکشی کی ہے، حالاں کہ یہ اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
کیوں کہ اسلامی تعلیمات اس عمل کو حرام قرار دیتی ہے، اس کا مرتکب اللہ ورسول کا نافرمان ہے اور یہ بہت بڑا جرم ہے:
کیوں کہ انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی وکسبی ملکیت نہیں بلکہ یہ اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے ان اسباب اور موانعات کے تدارک پر مبنی تعلیمات بھی اسی لیے دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ کارخانہِ قدرت کے لیے کار آمد رہے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگزاجازت نہیں دیتا۔
زندگی اور موت کا مالکِ حقیقی اﷲ تعالیٰ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ تلف کرنا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشا ربانی ہے:
وَلاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوَاْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔
’’اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبانِ اِحسان بنو، بے شک اﷲ اِحسان والوں سے محبت فرماتا ہے'‘
(البقرة، 2: 195)
امام بغوی نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 30 کی تفسیر کے ذیل میں سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت نمبر 195 بیان کرکے لکھا ہے:
وقيل: أراد به قتل المسلم نفسه.
’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا خودکشی کرنا ہے۔‘‘
(بغوی، معالم التنزيل، 1: 418)
ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًاo وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللّهِ يَسِيرًا۔
’’اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہے اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہے‘‘
(النساء، 4: 29، 30)
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:
{وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ} يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
’’{اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو}۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔‘‘
(رازی، التفسير الکبير، 10: 57)
مزید برآں امام بغوی نے ’’معالم التنزيل (1: 418)‘‘ میں، حافظ ابن کثیر نے ’’تفسير القرآن العظيم (1: 481)‘‘ میں اور ثعالبی نے ’’الجواهر الحسان في تفسير القرآن (3: 293)‘‘ میں؛ سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں (جو کہ آگے آرہی ہیں)۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔‘‘
لبخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2: 697، رقم: 1874)
یہ آیات قرآن اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں آحکام اسلام واضح طور پر اپنے جسم و جان، تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام عمل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔۔۔
عن أبي ھریرة رضي اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تردی من جبل فقتل نفسہ فھو في نار جھنم یتردی فیھا خالدًا مخلدًا فیھا أبدًا․ الحدیث (مشکوٰة: ج۲، ص۲۹۹) حدیث مذکور میں خودکشی کی مختلف صورتوں کا ذکر فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ اور اسی عذاب میں مبتلا رہے گا، جس عمل کے ذریعہ اس نے خودکشی کی ہے۔ صاحب مرقاة المفاتیح لکھتے ہیں کہ اگر اس عمل کے ذریعہ خودکشی کو حلال سمجھتے ہوئے اس نے کیا ہے تو ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہنے کی سزا ہے یا خلود سے مراد طویل مدت ہے۔ اس لیے اگر مباح سمجھ کر نہیں کیا ہے تو امید ہے کہ اللہ تعالی اس کو معاف کردیں اور بعد سزا جنت میں داخل کردیں۔ یادماغی خلل اس کا باعث رہا ہو بھی معاف کردیں۔
*اب ہم بات کر تے ہیں کہ عائشہ نے خودکشی کیوں کی؟؟*
یقیناً وہ ایک متوسط گھرانے کی تعلیم یافتہ نو خیز بچی تھی، جس کی شادی حسب استطاع بڑی دھوم دھام سے (عارف خان) کے ساتھ ہوئی، مگر کسے معلوم تھا کہ ان کا شوہر بشکل انس درندگی، حرص، بے غیرتی اور لالچ کو اپنی گھٹی میں بسائے ہوئے ہے، جس کا عائشہ پر استحصال، ظلم وستم، طعن وتشنیع اور سب وشتم کے نتیجے احساس کمتری کا شکار کر دینے والا ایسا منفی اثر قائم ہوا جس گراں دوش کے تحمل سے اس نے عاجز وقاصر ہوکر سماج ومعاشرے کو شرمندہ کرکے ایک ایسی راہ اپنائی، جو نہایت ہی افسوسناک اور شرمناک ہے، کیوں کہ بظاہر اگر چہ اس کے لبوں پر کسی کے بارے میں کوئی شکوہ گلا نہیں تھا، مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے رنج وغم، دل میں درد کا کتنا بڑا پہاڑ تھا جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ وقتی طور پر اپنے آپے سے باہر ہو کر دماغی توازن کھو بیٹھی تھی یا یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اس کے پیرو تلے زمین کھسک گئ تھی اور پھر نتیجتاً دنیوی رسم و رواج کے پیچ وخم سے یکسر ہوکر خود کو دوامی طور پر ناپید کرلی جس کی تلافی سماج ومعاشرہ کے ذریعے اس وقت تک نہیں سمجھی جائے گی جب تک کہ اس ناسور فعل ملعون (جہیز) کا ہر طرح سے سدباب نہ کیا جائے، اس کا کلی طور پر بائیکاٹ نہ کیا جائے۔۔۔
تبصرے