شبِ براءت: رحمت کی رات یا رسموں کا بوجھ؟` نقوش یکہتوی
`شبِ براءت: رحمت کی رات یا رسموں کا بوجھ؟`
نقوش یکہتوی
شعبان کی پندرھویں رات…
یہ وہ ساعت ہے جب آسمان پر رحمت کی دستک سنائی دیتی ہے، جب زمین پر بسنے والے گناہ گاروں کے لیے درِ مغفرت کھلتا ہے اور جب ربِ کائنات بندوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے:
ہے کوئی معافی مانگنے والا؟ ہے کوئی ضرورت پیش کرنے والا؟
یہ رات شور کی نہیں، یہ رات چراغاں کی نہیں، یہ رات رسموں، ضیافتوں اور ہجوم کی نہیں یہ رات خاموشی، ندامت اور لوٹ آنے کی رات ہے۔
مگر المیہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے اس رات کو عبادت سے زیادہ روایتوں، قصّوں اور من گھڑت باتوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔
`دین دلیل سے چلتا ہے، جذبات سے` نہیں قرآن کھول کر دیکھیے، سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کیجیے، صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں ورق ورق پڑھ لیجیے کہیں یہ نہیں ملتا کہ شبِ براءت کے لیے کوئی مخصوص نماز، کوئی خاص جماعت، یا کوئی لازمی رسم مقرر کی گئی ہو۔
عبادت کا دروازہ کھلا ہے، مگر عبادت کی صورت متعین کرنا بغیر دلیل کے وہیں سے بدعت کا دروازہ کھلتا ہے۔
`حلوہ، ملیدہ اور تاریخ کی ناواقفیت`
ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ اس رات حلوہ بنانا گویا لازم سمجھ لیا گیا ہے اور اس کے لیے تاریخ کا سہارا لیا جاتا ہے۔
حالانکہ تاریخ صاف بتاتی ہے کہ
نبی کریم ﷺ کا دندانِ مبارک
7 شوال سن 3 ہجری میں جنگِ اُحد کے موقع پر شہید ہوا، نہ کہ 15 شعبان کو۔
اگر عشقِ رسول ﷺ دلیل کا پابند نہ رہےتو پھر وہ عشق نہیں، صرف جذبات رہ جاتے ہیں۔
`قبرستان: عبرت کی جگہ، میلہ نہیں`
قبرستان جانا سنت ہے مگر ہجوم بنا کر، مقررہ تاریخ پر، جماعت کی صورت میں جانا یہ نہ نبی ﷺ کا طریقہ ہے، نہ صحابہؓ کا۔
قبرستان خاموشی مانگتا ہے، شور اور نمائش نہیں۔
شبِ براءت اور محرومی کا اعلان
یہ رات اگرچہ مغفرت کی رات ہے، مگر احادیث میں یہ بھی آیا ہے
کہ چند لوگ ایسے ہیں جو اس عام مغفرت سے محروم رہتے ہیں۔
ان میں بالخصوص یہ لوگ شامل ہیں:
1. مشرک : جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے
2. شراب نوشی کرنے والا: جو توبہ پر آمادہ نہ ہو
3. والدین کا نافرمان: جو ان کے دل دکھاتا ہو
4. بے بنیاد رشتہ توڑنے والا : جو قطعِ رحمی کرتا ہو
5. قاتل :جس نے ناحق خون بہایا ہو
6. دل میں کینہ رکھنے والا: جو بغض و عداوت پالے بیٹھا ہو
7. تکبر اور معصیت پر اصرار کرنے والا
8. وہ شخص جو گناہ پر نادم ہی نہ ہو
یہ فہرست ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں،
بلکہ جھنجھوڑنے کے لیے ہے کہ کہیں ہم رحمت کے ہجوم میں کھڑے ہو کر بھی محروموں کی صف میں تو شامل نہیں؟
اصل نجات کا راستہ:
نجات نہ حلوے میں ہے، نہ چراغاں میں، نہ اعلانوں میں۔
نجات ہے:
سچی توبہ میں، ٹوٹے دل کے آنسو میں، والدین کی رضا میں، دلوں کو صاف کرنے میں اور سنت کے مطابق جینے میں، اگر ہمیں واقعی شبِ براءت سے کچھ لینا ہے تو رسموں سے نہیں، رجوع الی اللہ سے لینا ہوگا۔
دین نیا نہیں مانگتا، وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ جو دیا گیا ہے اسی کو سچائی سے تھام لیا جائے۔
کاش! ہم شبِ براءت کوبدعتوں سے آزاد کر کے عبادتوں سے آباد کر سکیں۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va9eo6tGOj9l0fyMKT1o
تبصرے