حضرت علامہ قمر الدین احمد گورکھپوری: علم و عرفان کا تابندہ چراغ
حضرت علامہ قمر الدین احمد گورکھپوری: علم و عرفان کا تابندہ چراغ
نقوشِ یَکْہَتْوِی
نقوشِ یَکْہَتْوِی
مولانا قمر الدین احمد بن بشیر الدین گورکھپوری 2 فروری 1938ء کو اتر پردیش کے مردم خیز خطے، گورکھپور کے قصبہ بڑہل گنج میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ذات علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور روحانیت کا مرقع تھی، جنہوں نے اپنی زندگی علم دین کی خدمت اور تدریس کے لیے وقف کردی۔
ابتدائی و اعلیٰ تعلیم
مولانا قمر الدین احمد نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز احیاء العلوم مبارک پور اور دار العلوم مئو سے کیا، جہاں آپ نے ابتدائی و متوسط تعلیم مکمل کی۔ بعد ازاں 1954ء میں آپ نے علمی دنیا کے عظیم مرکز، دار العلوم دیوبند کا رخ کیا اور 1957ء میں دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں وقت کے جلیل القدر علماء شامل تھے جن میں حضرت حسین احمد مدنی، حضرت فخر الدین احمد مراد آبادی اور حضرت محمد ابراہیم بلیاوی جیسے نامور محدثین شامل تھے۔ آپ نے صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی اور دیگر معروف کتب حدیث اپنے شیوخ سے پڑھیں اور خوب استفادہ کیا۔
تصوف و سلوک کی راہ
علم ظاہری کے ساتھ ساتھ مولانا قمر الدین احمد نے علم باطنی، یعنی تصوف کی جانب بھی بھرپور توجہ دی۔ آپ نے پہلے حضرت شاہ وصی اللہ الہ آبادی سے اصلاحی تعلق قائم کیا اور ان کے وصال کے بعد حضرت ابرار الحق حقی سے وابستگی اختیار کی، جہاں سے آپ کو اجازتِ بیعت سے نوازا گیا۔ آپ کی زندگی میں زہد و تقویٰ اور خشیت الٰہی کا رنگ نمایاں تھا۔
تدریس کا عظیم سفر
فراغت کے بعد مولانا قمر الدین احمد نے اپنے شیخ و استاد حضرت محمد ابراہیم بلیاوی کے مشورے پر مدرسہ عبد الرب دہلی میں تقریباً آٹھ سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ نے وہاں صحیح بخاری جیسے جلیل القدر کتب کا درس دیا۔ اسی دوران دہلی کی جامع مسجد میں قرآن پاک کی تفسیر بھی فرماتے تھے۔ بعد ازاں 1966ء میں دار العلوم دیوبند میں آپ بحیثیت مدرس مقرر ہوئے اور یہاں بھی آپ نے مختلف کتب کا درس دیا۔ 1979ء میں آپ کو علیا درجے میں ترقی ملی اور آپ کی تدریسی ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔ آخر عمر میں آپ سے صحیح بخاری جلد ثانی اور تفسیر ابن کثیر کے اسباق متعلق رہے۔
انتظامی امور میں خدمات
مولانا قمر الدین احمد نے دار العلوم دیوبند میں انتظامی امور میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 1970ء میں ایک مرتبہ اور 1974 سے 1980ء تک دوسری مرتبہ آپ دار الاقامہ کے ناظم رہے۔ 1989ء سے 1995ء تک آپ ناظم مجلس تعلیمی کے عہدے پر فائز رہے اور اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
تصانیف اور مواعظ
اگرچہ مولانا قمر الدین احمد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تدریس اور اصلاح امت میں صرف کیا، تاہم آپ کی باقاعدہ تصنیف منظر عام پر نہیں آسکی۔ البتہ آپ کے پر مغز اور دلنشین مواعظ کو "جواہراتِ قمر" کے عنوان سے ایک جلد میں جمع کیا گیا ہے، جو آپ کی روحانی اور اصلاحی گفتگوؤں کا آئینہ دار ہے۔
انتقال
مولانا قمر الدین احمد 22 دسمبر 2024ء بروز یکشنبہ کو دیوبند میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ آپ کی رحلت سے علمی و روحانی دنیا میں ایک ناقابلِ تلافی خلاء پیدا ہوا جسے پر کرنا مشکل ہے۔ آپ کا نام ہمیشہ علم و عرفان کی دنیا میں ایک تابندہ چراغ کے طور پر روشن رہے گا۔
تبصرے