شادی اور خواتین: روایات اور جدید تقاضے نقوشِ یَکْہَتْوِی

شادی اور خواتین: روایات اور جدید تقاضے
    نقوشِ یَکْہَتْوِی
 
شادی اور خواتین: روایات اور جدید تقاضے
    نقوشِ یَکْہَتْوِی
       شادی جو ہر معاشرتی نظام کا ایک بنیادی جزو ہے انسانی زندگی کا ایک مقدس اور اہم رشتہ ہے۔ اسلامی اور مشرقی معاشروں میں شادی محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک روحانی بندھن بھی ہے جو دو افراد کو ہی نہیں بلکہ دو خاندانوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ خواتین کا اس رشتے میں کردار ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ روایات اور جدید تقاضوں کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

اسلامی تعلیمات میں شادی کو ایک عظیم عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں شادی کے اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں وہیں عورت کے حقوق اور اس کی عزت و تکریم پر بھی زور دیا گیا ہے۔ شادی میں عورت کی رضامندی اور اس کی مرضی کو خاص اہمیت دی گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں عورت کو ایک خود مختار انسان تسلیم کیا گیا ہے۔

تاہم روایتی معاشروں میں شادی کے حوالے سے کچھ فرسودہ رواج اور رسومات بھی پروان چڑھیں جنہوں نے عورت کو بعض اوقات اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا۔ مثال کے طور پر جہیز جیسی روایت جو بظاہر ایک تحفہ سمجھا جاتا ہے کئی مواقع پر خواتین کے لیے بوجھ اور مشکلات کا سبب بنی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سی خواتین کو یا تو اپنے والدین کے مالی حالات کے سبب شادی کے مواقع سے محروم رہنا پڑتا ہے یا پھر شادی کے بعد معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ملتا بلکہ شادی کو سادہ اور بابرکت بنانے کی تلقین کی گئی ہے۔

دوسری جانب جدید تقاضے خواتین کی خود مختاری اور ان کے حقوق کی ضمانت دینے کی بات کرتے ہیں۔ آج کا دور اس بات کا متقاضی ہے کہ خواتین کو شادی جیسے اہم فیصلے میں مکمل اختیار اور آزادی دی جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم ان کی معاشی خود مختاری اور شادی کے حوالے سے ان کی رائے کو مقدم رکھنا جدید معاشرتی تقاضوں کا حصہ بن چکا ہے۔ آج کی عورت اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں خود مختار ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کہ شادی کا فیصلہ بھی اس کی مرضی اور مشورے کے ساتھ ہو۔

یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جدید دور کی عورت اپنی روایات اور مذہبی اصولوں سے جڑی رہتے ہوئے اپنے حقوق کی پاسداری کرتی ہے۔ وہ اپنے خاندان اور سماج کی اقدار کا احترام کرتی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا بھی جانتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے معاشرتی مسائل جن میں خواتین کی شادی میں جبری رضامندی یا معاشی استحصال شامل ہیں موضوع بحث بن چکے ہیں۔

شادی کے جدید تقاضے صرف خواتین کے حقوق تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری معاشرتی ترتیب کا حصہ ہیں۔ ازدواجی زندگی میں دونوں فریقین کے درمیان احترام محبت اور برابری کی بنیاد پر تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ جہاں خواتین کو خود مختار سمجھا جائے وہیں مردوں کے بھی فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے کی رائے کا احترام اور ایک دوسرے کی زندگی میں تعاون کرنا ہی ایک کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ شادی میں خواتین کا کردار روایات اور جدید تقاضوں کے درمیان ایک پل کا سا ہے۔ جہاں پرانے روایتی رواجوں کو اپنانا ان کی عزت و تکریم کا حصہ ہے وہیں جدید دور کے تقاضے انہیں خود مختاری اور اپنے حقوق کے حصول کی راہ دکھاتے ہیں۔ آج کی عورت دونوں پہلوؤں کو سمجھتے ہوئے ایک ایسی ازدواجی زندگی کی متمنی ہے جہاں وہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکے اور اپنی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں لا سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں