ظلم اور ناانصافی کا بازار: مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم
ظلم اور ناانصافی کا بازار: مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم
نقوشِ یَکْہَتْوِی
ظلم اور ناانصافی کا بازار: مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مظالم
نقوشِ یَکْہَتْوِی
آج کے دور میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی ایک سنگین لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چاہے پولیس ہو انتہا پسند تنظیمیں ہوں، یا حکومتی عناصر، ہر جگہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مذہبی مقامات پر حملے کیے جاتے ہیں، ان کے گھروں کو بلڈوزروں سے منہدم کیا جاتا ہے اور ان کے خون سے زمین کو سرخ کیا جا رہا ہے۔
یہ سب کچھ ایک منظم سازش کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس میں حکومت کے ذمہ دار عہدیداروں کے کارکنان اور جماعتیں شامل ہیں۔ ان واقعات میں یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے کہ پہلے مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے کیے جاتے ہیں، وہاں پتھر بازی کروائی جاتی ہے اور پھر مسلمانوں کو فسادی قرار دے کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ کیا یہ زمین، جو وقف کی گئی تھی، اب سرکاری پراپرٹی بن چکی ہے؟ کیا مسلمانوں کے آبا و اجداد کی دی ہوئی زمین اب ان سے چھینی جائے گی؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟
فسادات اور فرقہ واریت کا کھیل
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات ایک خطرناک حقیقت بن چکے ہیں اور ان میں حکومتی معاونت کا شبہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ، امت شاہ اور نریندر مودی جیسے رہنماؤں کے کارکنان ان فسادات کے پیچھے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ فسادات اس منظم انداز میں کرائے جاتے ہیں کہ پہلے فسادی عناصر کو مسلمانوں کے علاقوں میں بھیجا جاتا ہے، اور پھر ان پر الزامات لگا کر ان کے خلاف سرکاری کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنا کر انہیں غیر محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر ان کی زمینوں کو سرکاری پراپرٹی قرار دے کر ان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے، جو قوم کے نوجوانوں اور بزرگوں کو جیلوں میں ڈال کر ان کی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکومت اور عوام کے لیے سوالات
یہ صورتحال ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ حکومت ہند سے یہ سوال پوچھا جانا ضروری ہے کہ کیا اس طرح کی پالیسیوں کے ذریعے ملک کے امن و امان کو خطرے میں ڈالنا درست ہے؟ کیا مسلمانوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت جیلوں میں ڈالنا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنا انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے؟ کیا یہ پالیسیاں ملک کو فرقہ وارانہ فساد اور انتشار کی طرف نہیں لے جا رہیں؟
تبصرے