میڈیا کا بدلتا منظرنامہ قسط نمبر:8
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 8: آزادیِ صحافت – حقائق کی حفاظت یا سنسر شپ کا جال؟
تاریخ: 6 نومبر 2024 بروز بدھ
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 8: آزادیِ صحافت – حقائق کی حفاظت یا سنسر شپ کا جال؟
تاریخ: 6 نومبر 2024 بروز بدھ
آزادیِ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ یہ وہ حق ہے جو عوام کو سچائی جاننے اور حکومتوں یا اداروں کے خلاف آواز اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مگر جیسے جیسے دنیا آگے بڑھ رہی ہے صحافت کے اس اہم حق کو سنسر شپ کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔
ماضی میں صحافیوں کو حقائق کی حفاظت اور سچائی کی تبلیغ کے لیے جانا جاتا تھا۔ وہ ظلم و زیادتی کے خلاف کھڑے ہوتے اور طاقتوروں کو جواب دہ بناتے تھے۔ لیکن آج بہت سے صحافیوں کو سنسر شپ اور دباؤ کا سامنا ہے۔ انہیں اپنی رپورٹس میں سچ کو دبانے یا حکومتی یا تجارتی مفادات کے مطابق پیش کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
سنسر شپ کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں – بعض اوقات حکومتیں براہِ راست میڈیا کو کنٹرول کرتی ہیں اور بعض اوقات بڑے کاروباری ادارے خبروں کے مواد کو متاثر کرتے ہیں۔ نتیجتاً سچائی اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے اور عوام کو صرف وہی معلومات فراہم کی جاتی ہیں جو ان اداروں کے مفادات میں ہوں۔
آزادیِ صحافت کا تحفظ صرف صحافیوں کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ ہر شہری کا حق اور فرض ہے کہ وہ سچائی تک رسائی کو یقینی بنائے۔ اگر ہم اس جمہوری حق کا دفاع نہیں کریں گے تو ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ رہنے پر مجبور ہو جائیں گے جہاں سچائی کی جگہ جھوٹ اور پروپیگنڈا لے لیتا ہے۔
(اگلی قسط میں: جھوٹی خبروں کا سیلاب – سچائی کا قتل)
تبصرے