میڈیا کا بدلتا منظرنامہ قسط 7
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 7: میڈیا کا مستقبل – عوامی خدمت یا محض کاروبار؟
تاریخ: 5 نومبر 2024 بروز منگل
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 7: میڈیا کا مستقبل – عوامی خدمت یا محض کاروبار؟
تاریخ: 5 نومبر 2024 بروز منگل
میڈیا کو کبھی عوام کی آواز سمجھا جاتا تھا، ایک ایسا ذریعہ جس کے ذریعے سچائی کو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا اور مظلوموں کو انصاف دلانے میں مدد کی جاتی۔ مگر آج کے دور میں، یہ سوال اٹھنا شروع ہو چکا ہے کہ آیا میڈیا کا مقصد اب بھی عوام کی خدمت ہے یا یہ محض کاروبار بن کر رہ گیا ہے۔
آج کے میڈیا کا بڑا حصہ تجارتی مفادات کے تحت کام کرتا ہے۔ خبر کا مواد اکثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کون سا موضوع زیادہ ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرے گا اور اس سے کتنی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس دوڑ میں سچائی پیچھے رہ جاتی ہے اور جھوٹی خبریں اور سنسنی خیز عنوانات آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ بعض بڑے میڈیا ہاؤسز سیاسی اور کاروباری مفادات کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ وہ اپنے مالکان یا سرپرستوں کے مفاد کے مطابق خبریں پیش کرتے ہیں اور ان موضوعات پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں جو ان کے مالی یا سیاسی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس نے عوام کے اعتماد کو بری طرح متزلزل کر دیا ہے۔
لیکن میڈیا کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ جدید دور میں آزاد صحافی اور بلاگرز نے سچائی کی تلاش اور عوامی شعور کو بیدار کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ وہ روایتی میڈیا کے مفادات سے آزاد ہو کر ایسے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں جو عام طور پر نظرانداز ہو جاتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا میڈیا اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹتا ہے یا وہ مزید کاروباری مفادات کی جانب بڑھتا جائے گا۔ عوامی شعور کی بیداری اور سچائی کے فروغ میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے اور اس ذمہ داری کو نبھانا صرف میڈیا کی نہیں، بلکہ معاشرے کی بھی ضرورت ہے۔
(اگلی قسط میں: آزادیِ صحافت – حقائق کی حفاظت یا سنسر شپ کا جال؟)
تبصرے