میڈیا کا بدلتا منظرنامہ قسط نمبر:3

میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 3: جھوٹی خبروں کا اثر: معاشرتی اعتبار کا زوال
تاریخ: 1/ نومبر 2024 بروز جمعہ
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 3: جھوٹی خبروں کا اثر: معاشرتی اعتبار کا زوال
تاریخ: 1/ نومبر 2024 بروز جمعہ

       جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ آج کل کے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔ جب میڈیا اپنی ذمہ داری سے ہٹ کر جھوٹ یا مبالغہ آرائی پر مبنی خبریں پھیلانا شروع کر دیتا ہے تو اس کا سب سے پہلا اثر عوام کے ذہنوں پر پڑتا ہے۔ عوام کا میڈیا پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور معاشرت میں بے چینی اور انتشار کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
جھوٹی خبروں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ نہ صرف غلط معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ سچائی کو بھی دھندلا دیتی ہیں۔ جب بار بار جھوٹی خبروں کو سچ بنا کر پیش کیا جائے تو سچائی کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام حقائق کو جھوٹ سمجھنے لگتے ہیں اور جھوٹ کو حقیقت۔
مزید برآں، یہ خبریں مختلف معاشرتی گروہوں کے درمیان اختلافات کو جنم دیتی ہیں۔ جھوٹی خبروں کے ذریعے مذہبی، سیاسی اور سماجی بنیادوں پر تقسیم کی دیواریں کھڑی کی جاتی ہیں۔ ایک غلط خبر پورے معاشرے میں نفرت اور فساد کو ہوا دے سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ جھوٹی خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں، جہاں ہر فرد صحافی بن کر اپنی من پسند معلومات پھیلانے میں لگ جاتا ہے، چاہے وہ حقائق پر مبنی نہ ہوں۔
جھوٹی خبروں کا دوسرا بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ سچے مجرموں کو چھپانے اور بے گناہوں کو مجرم قرار دینے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ کچھ میڈیا ہاؤسز اپنے مفادات کے لیے قصداً جھوٹے واقعات کو ہوا دیتے ہیں، جس سے نہ صرف عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے بلکہ نظامِ عدل اور قانون کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اس سب کے باوجود جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے، اگر عوام خود شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ عوام کو خبروں کی تصدیق کرنا سیکھنا ہوگا اور انہیں سمجھنا ہوگا کہ ہر خبر جو سنائی جائے، وہ ضروری نہیں کہ حقیقت پر مبنی ہو۔ صحیح ذرائع کا انتخاب اور معلومات کی تصدیق معاشرتی اعتبار کو بحال کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

(اگلی قسط میں: میڈیا کی آزادی یا مفادات کا کھیل؟)
         
          پہلی قسط           دوسری قسط 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں