میڈیا کا بدلتا منظرنامہ قسط:12
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 12: میڈیا کے معاشرتی اثرات – عوامی شعور یا ذہنی غلامی؟
تاریخ: 10 نومبر 2024 بروز اتوار
میڈیا کا بدلتا منظرنامہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
قسط نمبر 12: میڈیا کے معاشرتی اثرات – عوامی شعور یا ذہنی غلامی؟
تاریخ: 10 نومبر 2024 بروز اتوار
میڈیا کو معاشرتی شعور بیدار کرنے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ٹیلیویژن، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے خبریں، معلومات اور نظریات عوام تک پہنچائے جاتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور ان کی رائے سازی میں مدد کی جائے۔ لیکن آج کے دور میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا واقعی عوامی شعور بیدار کر رہا ہے یا اسے ذہنی غلامی کی طرف دھکیل رہا ہے؟
میڈیا کے معاشرتی اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک چابی کسی تالے کو کھول سکتی ہے اسی طرح میڈیا عوامی سوچ اور رویوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن جب خبریں اور مواد سنسنی خیز اور غیر حقیقی ہوں یا سیاسی و معاشرتی مفادات کے تابع ہوں تو یہ عوام کو صحیح اور غلط کے فرق سے دور لے جاتے ہیں۔
بعض اوقات میڈیا ایسی معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے جو خوف، نفرت یا انتشار پھیلاتی ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ عوام کو حقیقت سے دور کر کے ذہنی غلامی کی راہ پر لے جاتا ہے جہاں وہ میڈیا کے فراہم کردہ مواد کو بے سوال تسلیم کر لیتے ہیں۔
عوام کا فرض ہے کہ وہ میڈیا کے مواد کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں حقائق کی تصدیق کریں اور ایسی معلومات کو قبول کریں جو ان کے شعور کو بیدار کرنے میں مددگار ہو۔ میڈیا کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ اپنے معاشرتی کردار کو مثبت طریقے سے نبھائے۔
(اگلی قسط میں: میڈیا کی اخلاقی ذمہ داریاں – عوامی خدمت یا مالی مفادات؟)
تبصرے