بہرائچ میں فرقہ وارانہ فسادات: مسلم کمیونٹی نشانہ، انسانیت شرمندہ

بہرائچ میں فرقہ وارانہ فسادات: مسلم کمیونٹی نشانہ، انسانیت شرمندہ
     یکہتوی 
بہرائچ میں فرقہ وارانہ فسادات: مسلم کمیونٹی نشانہ، انسانیت شرمندہ
     یکہتوی 
بہرائچ جو اپنی تاریخی اور ثقافتی عظمت کے لیے جانا جاتا تھا، حالیہ دنوں میں فرقہ وارانہ فسادات کے طوفان کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ اس دلخراش تشدد میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے شہر کی فضاء میں خوف، دہشت اور غم کا عالم ہے۔ یہ فسادات صرف چند معمولی تنازعات سے بھڑک اٹھے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

تشدد کی دل دہلا دینے والی داستان: مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا کر، ان کی دکانوں اور جائیدادوں کو لوٹا گیا، جبکہ ان کے سامنے ان کی زندگی بھر کی کمائی کو راکھ میں تبدیل ہوتا دیکھا گیا۔ یہ واقعات کسی بھی انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن افسوس، اس دوران مقامی انتظامیہ کی غیر سنجیدگی اور ناکافی اقدامات نے ظلم کی اس آگ کو اور بھڑکایا۔ اسپتالوں میں زخمیوں کی آہ و بکا اور شہداء کی آخری رسومات نے شہر کو آنسوؤں میں ڈبو دیا ہے۔

دوسرا دن: فسادات کا سلسلہ دوسرے دن بھی رکا نہیں۔ مزید مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا اور ایک بار پھر شہر میں فرقہ وارانہ نفرت نے انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا۔ فرقہ وارانہ فسادات میں شدت کا عالم یہ تھا کہ علاقے کی فضا میں آگ اور دھوئیں کے بادل چھا گئے، اور مسلمانوں کا وجود خوف و ہراس کی علامت بن گیا۔

سیاسی ردعمل اور حکومتی ناکامی: ان افسوسناک حالات کے پیش نظر، سیاسی حلقوں میں سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی نااہلی اور فرقہ وارانہ فسادات کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے بھی حکومت کو اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانیت کا امتحان: بہرائچ کے فسادات نے ہمیں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم ایک متحد اور پرامن معاشرہ بنانے میں کامیاب ہو پائیں گے؟ یہ صرف مسلمانوں پر ظلم کی داستان نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی شکست اور نفرت کی جیت ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ ہم فرقہ وارانہ نفرت کو اپنی سرزمین پر مزید پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔

اختتام: بہرائچ کے واقعات ایک واضح پیغام ہیں کہ نفرت کا جواب نفرت نہیں بلکہ محبت، صبر اور رواداری سے دینا ہوگا۔ مسلمانوں کو اس نازک وقت میں اپنے حوصلے اور اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے ثابت قدمی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان فسادات کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائے اور امن و انصاف کو بحال کرے تاکہ دوبارہ ایسے المیے سے بچا جا سکے۔
  اسعد اقبال یکہتوی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں