یحییٰ سنوار: فلسطینی جدوجہد کا ایک اہم کردار یکہتوی
یحییٰ سنوار: فلسطینی جدوجہد کا ایک اہم کردار
یکہتوی
یحییٰ سنوار: فلسطینی جدوجہد کا ایک اہم کردار
یکہتوی
یحییٰ سنوار 1962 میں خان یونس غزہ میں پیدا ہوئے، اور حماس کے اہم رہنما کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل نے غزہ کا قبضہ حاصل کیا، جس سے سنوار کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ ان کا خاندان بھی 1948 میں فلسطینیوں کی بے دخلی کے دوران اپنی سرزمین سے محروم ہو گیا تھا اور عسقلان سے غزہ منتقل ہوا۔
سنوار نے اپنی جوانی میں ہی حماس کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور تنظیم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 1980 کی دہائی میں انھیں اسرائیلی مخبروں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور 22 سال قید کی سزا کاٹی، اس دوران انھوں نے عبرانی زبان سیکھی اور دشمن کا گہرا مطالعہ کیا۔
2011 میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہونے کے بعد، یحییٰ سنوار نے حماس کو ایک طاقتور جنگی قوت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں حماس نے اسرائیل کے خلاف سخت حملے کیے، جن میں 7 اکتوبر 2023 کے حملے نے اسرائیل کو تاریخی نقصان پہنچایا۔
یحییٰ سنوار 2024 میں جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہو گئے۔ ان کی موت حماس کے لیے ایک بڑا دھچکا تھی، لیکن فلسطینی عوام کی جدوجہد میں وہ ہمیشہ ایک یادگار شخصیت کے طور پر زندہ رہیں گے۔
تبصرے