امت مسلمہ کی ذمہ داری: نسل کی اصلاح اور معاشرتی خرابیوں کا سدِباب
امت مسلمہ کی ذمہ داری: نسل کی اصلاح اور معاشرتی خرابیوں کا سدِباب
امت مسلمہ کی ذمہ داری: نسل کی اصلاح اور معاشرتی خرابیوں کا سدِباب
اسعد اقبال یکہتوی
آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھ کر دل دہل گیا۔ ویڈیو میں ایک ہوٹل کا منظر دکھایا گیا تھا، جہاں تقریباً 50 مسلم لڑکیاں غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ دیکھی گئیں۔ یہ منظر دل کو جھنجھوڑنے والا تھا اور معاشرتی بگاڑ کا ایک سنگین اشارہ تھا۔ ایک ایسی قوم جس کی بنیاد دین، اخلاقیات اور روحانیت پر قائم ہو، اس کے نوجوانوں کا اس طرح بے راہ روی کا شکار ہونا ہم سب کے لیے باعثِ فکر ہے۔
اس ویڈیو نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہماری قوم کہاں جا رہی ہے؟ ہم اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کس حد تک غفلت برت رہے ہیں؟ مسلم معاشرے میں آج کی نوجوان نسل کا یہ حال کیوں ہے؟ یہ سوالات ہر باشعور مسلمان کے دل میں اٹھنے چاہئیں، کیونکہ بچوں کی درست پرورش ہماری بنیادی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
پرورش اور تربیت کا فقدان: وجہ اور انجام
آج کے والدین خصوصاً مسلم والدین، اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم تو دیتے ہیں، لیکن اکثر روحانی اور اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دیتے۔ جدید دور کے چمک دمک اور مغربی تہذیب نے ہمیں اس قدر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ ہم اپنی اصل شناخت اور بنیادی ذمہ داریوں کو بھولتے جا رہے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک بچے کی پرورش صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کی ذہنی، روحانی اور اخلاقی تربیت کا بھی اتنا ہی اہم حصہ ہے۔
جب ہم اپنی اولاد کو دین سے دور کرتے ہیں اور دنیاوی لذتوں میں غرق ہونے دیتے ہیں، تو وہ ایسے ہی مناظر کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے اس ویڈیو میں دیکھنے کو ملا۔ ہوٹلوں اور پارکوں میں نظر آنے والے یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں، جنہیں ہماری سوسائٹی اور خاندان کا مستقبل کہا جاتا ہے، بدقسمتی سے معاشرتی بگاڑ کا شکار ہو رہے ہیں۔
والدین کی ذمہ داری: اسلامی تعلیمات اور تربیت کی اہمیت
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے ہر ایک راعی (نگران) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔" (صحیح بخاری) اس حدیث کی روشنی میں والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی درست رہنمائی کریں، انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائیں اور دینی شعور دیں تاکہ وہ دنیا کی آزمائشوں میں ثابت قدم رہ سکیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی روزانہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، ان کے دوستوں کے انتخاب میں رہنمائی کریں، اور یہ دیکھیں کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کی کتابوں یا کاپیوں میں کوئی تاریخ نہ پائیں یا یہ دیکھیں کہ انہیں گھر کا کام نہیں ملا تو فوراً اس معاملے کی تحقیقات کریں اور اساتذہ سے رابطہ کریں۔ بچوں کی تعلیم اور تربیت میں غفلت نہ کریں، کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے مسائل کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
خاندانی ماحول کا کردار
خاندانی ماحول بھی بچوں کی پرورش میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں دین کی تعلیمات پر عمل ہوتا ہے، تو بچے خود بخود ان باتوں کو اپناتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی دین پر عمل پیرا ہوں تاکہ بچوں کے لیے وہ نمونہ بن سکیں۔ بچوں کے دلوں میں قرآن و سنت کی محبت پیدا کریں، انہیں دین کی عظمت اور اس کے احکامات کی اہمیت سکھائیں۔ یہ نہ بھولیں کہ اگر بچے کے اندر دین کی محبت اور خوفِ خدا پیدا کر دیا جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بے راہ روی کی طرف نہیں لے جا سکتی۔
معاشرتی بگاڑ کا حل: عملی اقدامات کی ضرورت
یہ وقت ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اپنی قوم اور نسل کی اصلاح کے لیے آگے بڑھیں۔ ہمیں اسکولوں، مدارس اور مساجد میں ایسے پروگرام شروع کرنے ہوں گے جہاں بچوں کو دین کی اصل تعلیم دی جا سکے اور انہیں دنیاوی فتنے اور چالوں سے بچایا جا سکے۔ نوجوان نسل کو دین کی روشنی میں زندگی گزارنے کی طرف مائل کرنے کے لیے ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
آج ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کے دلوں میں دین کی محبت بیدار کرنی ہوگی۔ وہ محبت جو انہیں دنیا کی لغویات سے بچا سکے اور آخرت کی کامیابی کی طرف لے جا سکے۔
امت مسلمہ کا مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے
یہ بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم کے ذمہ دار ہیں۔ ہماری غفلت، لاپرواہی اور دین سے دوری ہمارے بچوں کو دنیاوی خسارے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو نہ صرف دنیاوی علم دینا ہے بلکہ ان کے دلوں میں دین کی روشنی بھی پیدا کرنی ہے تاکہ وہ ایک بہتر مسلمان، بہتر انسان اور بہتر شہری بن سکیں۔ آج کا یہ چیلنج ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمیں فوراً اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دینی ہوگی، تاکہ ہماری قوم کا مستقبل روشن اور محفوظ ہو۔
تبصرے