رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخیاں: ہمارا فرض اور ہماری خاموشی کا محاسبہ
رسولِ اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں: ہمارا فرض اور ہماری خاموشی کا محاسبہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
تاریخ: 4/ اکتوبر 2024بروز: جمعہ
رسولِ اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں: ہمارا فرض اور ہماری خاموشی کا محاسبہ
تحریر: نقوشِ یکہتوی
تاریخ: 4/ اکتوبر 2024بروز: جمعہ
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ حرمتِ رسالت ﷺ کی حفاظت ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔ حضور ﷺ کی شان میں ذرا سی بھی گستاخی برداشت کرنا نہ تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور نہ ہی ہماری غیرتِ ایمانی کا تقاضا۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ امتِ مسلمہ کے لیے بے حد نازک ہے۔ شانِ رسالت ﷺ میں ہونے والی گستاخیوں کی بار بار تکرار اور مسلمانوں کی خاموشی نے نہ صرف ہمارے ایمان کی کمزوری کو ظاہر کیا ہے بلکہ ہماری اجتماعی غیرت اور حمیت کو بھی سوالیہ نشان بنادیا ہے۔
جب رسولِ کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر کوئی انگلی اٹھائی جاتی ہے، جب ان کے مقامِ عظمت کو داغدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ہمیں اپنی زندگیوں کا مقصد یاد آتا ہے۔ وہ مقصد جسے اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں ودیعت کیا: "محبتِ رسول ﷺ اور دین کی سربلندی"۔ مگر آج، ہم نے اس محبت کے تقاضوں کو بھلا دیا ہے۔ ہماری مساجد میں نمازیں تو ہیں، مگر آنکھوں میں وہ آنسو نہیں جو عشقِ رسول ﷺ کے تقاضے پورے کریں۔ ہمارے جلسوں میں نعرے تو ہیں، مگر دلوں میں وہ جوش نہیں جو گستاخوں کو اپنی حدود میں رہنے پر مجبور کرے۔
ہماری خاموشی ایک بے بسی کی علامت بن چکی ہے۔ مگر ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ خاموشی ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی کردار کی غفلت ہے۔ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حرمتِ رسول ﷺ کا دفاع کیا؟ کیا ہم نے اس درس کو فراموش کر دیا جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنی زندگی میں دیا، جب ایک ادنیٰ سی گستاخی پر بھی صحابہ نے اپنی تلواریں اٹھا لیں؟
آج، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ گستاخیٔ رسول ﷺ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے صرف احتجاجی نعروں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو اس محبت اور عظمت کا درس دینا ہوگا جسے ہمارے اسلاف نے سینے سے لگا کر رکھا تھا۔ ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کا مقام ہماری جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہے اور اس پر کوئی بھی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔
امتِ مسلمہ کو اپنے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ہوگا۔ ہم خود کو سوال کریں کہ کیا ہم واقعی نبی ﷺ کے غلام ہیں؟ کیا ہمارے دلوں میں وہی محبت اور غیرت ہے جو ایک عاشقِ رسول ﷺ کا خاصہ ہونا چاہیے؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی صرف ایک حملہ نہیں بلکہ ہماری ایمان کی اساس پر ایک وار ہے۔ اور اگر ہم اس وار کو خاموشی سے برداشت کرتے رہے تو یہ ہماری دینی کمزوری اور ہماری نادانی کی دلیل ہوگی۔
آج کا دن جمعہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو جھنجھوڑیں اور اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ ہمیں اپنے گھر سے شروع کرنا ہوگا، اپنے بچوں کو سیرتِ رسول ﷺ کی تعلیم دینی ہوگی، ان کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کو زندہ کرنا ہوگا، تاکہ آنے والے دنوں میں جب کبھی دشمنانِ اسلام گستاخی کی جرات کریں تو ہمارے بچے اپنے ایمان اور عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوں اور دشمنوں کو ان کی جگہ دکھا دیں۔
ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں اپنے نبی ﷺ کے مقام کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں وہ ہمت دے جس سے ہم گستاخوں کے منہ بند کرسکیں۔ یہ ہمارا فرض ہے اور اس فرض کو نبھانے کے لیے ہمیں ہر ممکن قدم اٹھانا ہوگا۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا، اپنے کردار کو درست کرنا ہوگا اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ جب کبھی بھی نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جائے، ہم ایک صف میں کھڑے ہو کر اس کا مقابلہ کر سکیں۔
آئیں، آج کے دن ہم اپنے آپ سے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیاں حرمتِ رسول ﷺ کی حفاظت کے لیے وقف کریں گے۔ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں گے، ہم اپنی نسلوں کو اس محبت اور غیرت کا درس دیں گے، اور ہم رسول اللہ ﷺ کی عزت و حرمت پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ یہی ہمارا دینی فریضہ ہے اور یہی ہماری زندگی کا مقصد۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے عشق میں مضبوط اور ان کی شان میں گستاخی کے خلاف ہمیشہ بیدار رہیں۔ آمین۔
تبصرے