محبت اور قربانی کی کہانی قسط:5
محبت اور قربانی کی کہانی
قسط نمبر 5: دل کی دھڑکنوں کا اعتراف
تاریخ: 7 اکتوبر2024 | پیر
تحریر: نقوش یکہتوی
محبت اور قربانی کی کہانی
قسط نمبر 5: دل کی دھڑکنوں کا اعتراف
تاریخ: 7 اکتوبر2024 | پیر
تحریر: نقوش یکہتوی
راجگیر کی حسین وادیوں میں، جہاں خاموشی بھی محبت کی داستان سناتی ہے، ثاقب اور سمیہ کی کہانی ایک نئی سمت اختیار کر رہی ہے۔ ہر لمحہ، ہر جذبہ اور ہر دھڑکن ہمیں ایک ایسی محبت کی راہ دکھاتی ہے جس میں قربانی اور احساسات کا گہرا تعلق چھپا ہوا ہے۔
ثاقب کے دل میں ایک کشمکش جاری تھی۔ اس کی ملاقاتیں سمیہ سے بڑھ رہی تھیں اور ہر ملاقات کے ساتھ اس کے دل میں محبت کا جذبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ لیکن دل کی بات کہنے میں اسے ایک جھجھک تھی، ایک خوف کہ کہیں وہ سمیہ کو کھو نہ دے۔ وہ یہ جانتا تھا کہ محبت کا اظہار کرنا آسان نہیں، خاص طور پر جب دل میں یہ ڈر ہو کہ جواب نہ میں بھی ہو سکتا ہے۔
ایک دن ثاقب نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دل کی بات سمیہ کو بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر دے گا۔ وہ اس کی سادگی اور محبت بھری شخصیت سے بہت متاثر تھا اور دل میں اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا خیال بٹھا چکا تھا۔
اس دن ثاقب نے سمیہ سے ایک پرسکون جگہ پر ملنے کا ارادہ کیا۔ اس نے سمیہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اس سے گاؤں کے ایک پرانے برگد کے درخت کے پاس ملنا چاہتا ہے۔ یہ جگہ گاؤں کے لوگوں کی پسندیدہ جگہ تھی، جہاں وہ سکون سے وقت گزارتے تھے۔
شام کے وقت جب سورج کی روشنی مدھم ہو رہی تھی اور ہوا میں ایک خنکی تھی، سمیہ وہاں پہنچی۔ اس نے دیکھا کہ ثاقب ایک بینچ پر بیٹھا ہوا تھا، اس کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر تھا۔ وہ الجھا ہوا اور پریشان دکھائی دے رہا تھا، جیسے اس کے دل میں کوئی بڑی بات ہو۔
سمیہ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "کیا ہوا ثاقب؟ آج کچھ زیادہ ہی خاموش ہو۔"
ثاقب نے سر اٹھایا اور سمیہ کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ کوئی بڑا فیصلہ کرنے والا ہو۔ اس نے تھوڑا سا جھجک کر کہا، "سمیہ، میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں، لیکن سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے کہوں۔"
سمیہ نے حیرانی سے پوچھا، "کیا بات ہے؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟"
ثاقب نے گہری سانس لی اور اپنے دل کی بات شروع کی، "سمیہ جب سے میں نے تمہیں دیکھا ہے، میرے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہو گیا ہے۔ تمہاری سادگی، تمہاری معصومیت اور تمہاری محبت بھری باتوں نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کسی کے لیے میرے دل میں اتنا پیار ہو سکتا ہے۔"
سمیہ یہ سن کر حیران رہ گئی۔ اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ ثاقب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ تم بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہو یا نہیں، لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ تم میرے لیے بہت خاص ہو۔ میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ تم بھی میرے جذبات کو سمجھو گی۔"
ثاقب کی یہ بات سن کر سمیہ کے دل میں مختلف جذبات کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ حیران تھی، پریشان بھی اور دل میں ایک خوشی کا احساس بھی تھا۔ لیکن اس کے دل میں بھی سوالات تھے۔ وہ اپنی جگہ پر خاموش کھڑی رہی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ثاقب نے یہ دیکھ کر کہا، "سمیہ، میں تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ تمہارے لیے جو بھی فیصلہ ہو، وہ میرے لیے قابل قبول ہوگا۔ میں بس اپنی دل کی بات کہہ کر ہلکا ہو گیا ہوں۔"
سمیہ نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، "ثاقب، تمہاری بات سن کر میں بہت حیران ہوں، لیکن مجھے کچھ وقت چاہیے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے اور میں اس کے بارے میں سوچنا چاہتی ہوں۔"
ثاقب نے سر ہلا کر کہا، "بالکل، میں تمہارا ہر فیصلہ قبول کرنے کو تیار ہوں۔ تمہاری خوشی میرے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔"
یہ کہہ کر وہ دونوں ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔ شام کی مدھم روشنی میں، برگد کے درخت کے نیچے، دو دلوں کے درمیان ایک نئی کہانی نے جنم لیا۔ ثاقب نے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی اور اب وہ سمیہ کے جواب کا انتظار کرنے کے لیے تیار تھا، چاہے وہ جواب کچھ بھی ہو۔
مزید پڑھیں ⬇️
قسط: 1 ملاقات کی پہلی جھلک
قسط ؛ 2 دل کی دھڑکن
قسط:3 دل کی بے چینی
قسط:4۔ دل کی گہرائیوں میں نئی امید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے