اپنی اصلاح کیسے کریں؟
اپنی اصلاح کیسے کریں؟
از نوک حرکت: اقراء عزیز پاکستان
انسان وہی ہے جو اپنی خانہ بدوش طبیعت سے باہر نکل کر اپنی حیثیت کے لئے کوئی مستقل ٹھکانہ بنائے۔ وہ اپنے آپ کو نکھارنے اور سنوارنے کی کوشش کرتا رہے۔ اس سفر میں، وہ اپنی پیدائش سے لے کر زندگی کے ختم ہونے تک مختلف معیارات اور ترجیحات اپناتا ہے۔ تاہم، اس عمل میں سب سے اہم چیز جو انسان کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے وہ باطن کی اصلاح ہے۔
ظاہر کو سنوارنے کے لئے انسان لاکھوں جتن کرتا ہے، مگر باطن کی نشو و نما کو فراموش کر دیتا ہے۔ اپنی اصلاح کے لئے سب سے پہلے نماز کی پابندی ضروری ہے۔ اگر آپ نماز پابندی سے نہیں پڑھتے تو نماز کو باقاعدگی سے ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ، نماز کے ترجمہ کو یاد کریں تاکہ نماز کی اصل روح کو سمجھا جا سکے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘ اس آیت کی روشنی میں ہمیں اپنی نماز کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
اصلاح کے لئے دوسری اہم چیز دعا ہے۔ روزانہ اپنی دعا پر غور کریں کہ آپ اللہ سے کیا مانگ رہے ہیں اور کیا مانگنا چاہیے۔ دعا میں صرف دنیاوی ضروریات کا مطالبہ نہ کریں بلکہ اپنی آخرت اور مقصدِ حیات کو بھی اللہ سے مانگیں۔ اللہ سے بار بار پوچھیں کہ میرا مقصدِ حیات کیا ہے؟ یہ دعا آپ کو اپنے مقصدِ حیات کی طرف توجہ دلائے گی اور اللہ تعالیٰ آپ کے لئے راستے کھولیں گے۔
واصف علی واصف کہتے ہیں: ’’بے مقصد زندگی چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، موت سے بدتر ہے۔‘‘ مقصدِ حیات کے لئے تہجد کا اہتمام کریں اور اللہ سے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ دعا کریں۔
نماز اور دعا کے بعد تیسری اہم چیز روزہ ہے۔ ہر ماہ تین نفلی روزے رکھیں۔ نفلی روزے اور عبادتیں نفس کی درستگی کے لئے ضروری ہیں۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں: ’’جب انسان کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے تو اس کے اعضا بھوکے ہوتے ہیں (یعنی جنسی حس زیادہ ہوتی ہے) اور جب اس کا پیٹ خالی ہو تو اس کے اعضا سیر ہوتے ہیں (یعنی جنسی جذبات سرد پڑ جاتے ہیں)۔‘‘
اصلاح کے لئے چوتھی اہم چیز ذکر الٰہی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دل دو چیزوں، غفلت اور گناہ سے زنگ پکڑتا ہے اور دو چیزوں سے زنگ دور کیا جا سکتا ہے: استغفار اور ذکرِ الٰہی۔
زندگی میں دو چیزیں اپنانا ہمیشہ ضروری ہے: گرمیوں میں وضو کی حالت میں رہنے کی کوشش کریں اور سردیوں میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھیں۔ یہ اصول اپنانے سے دین پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ (۱۰)ترجمہ: بے شک مراد کو پہنچا جس نے اسے (نفس کو) ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے گناہ میں چھپایا۔
نجات کے لئے علم حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ اپنی اصلاح بھی ضروری ہے۔ جو اپنی اصلاح میں کامیاب رہا، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رسول اکرم ﷺ کی شفاعت سے جنت کا حق دار ہوگا۔ الله تعالی سے دعا ہے کہ وه ہمیں قلب سلیم اور عقل سلیم عطا فرمائے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تبصرے