مصروف زندگی میں سکون کیسے پائیں؟

مصروف زندگی میں سکون کیسے پائیں؟
از قلم: ذبیح اللہ مکی پاکستان 

قارئین کرام:
    مصروفیت بھی اللّہ رب العزت کی طرف سے ایک نعمت ہے، اس سے آدمی فضولیات، لغویات اور بے فائدہ امور سے بچتا ہے، بشرطیکہ اس کی مصروفیت معیاری ہو۔ 

دریں اثناء مصروفیت تھکاوٹ اور بے سکونی کا سبب بھی بنتی ہے، جس سے آدمی اُکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے، اور راحت و تسکین کا موقع تک میسر نہیں ہوتا۔ طلبِ معاش وغیرہ ہی اسے اپنی مصروفیت پر ثابت قدمی کے لئے مجبور کرتی ہے جبکہ آدمی اس کے لئے تیار نہیں ہوتا، راحت و تسکین اس کی مطلوب ہوتی ہے۔

اگر آدمی اپنی مصروف زیست میں "نظام الاوقات" کی ترتیب بنائے، اور اپنے روز مرہ معمولات اور مصروفیت کو ایک نظام الاوقات کے تحت بسر کرے، تو یہی ناپسندیدہ اور باعثِ اکتاہٹ مصروفیت آدمی کا محبوب مشغلہ بن جائے گی، اور راحت و تسکین کا اسے موقع بھی میسر ہوگا۔ آدمی اپنی مصروفیت کو نعمتِ خداوندی سمجھ کر انجام دے گا۔

نظام الاوقات کی وجہ سے ایک منظم زندگی وجود میں آتی ہے، اور یہ زندگی کی خوبی و کامیابی سمیت اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کو ایک نظم و ضبط کے تحت بسر کیا جائے۔ نظام الاوقات سے وقت کا صحیح استعمال ہوتا ہے، ہر کام کے لئے وقت میسر آتا ہے، ہر کام بروقت ہونے لگتا ہے۔ وقت بامقصد امور میں صرف ہوتا ہے، فضولیات سے اجتناب ہوتا ہے، پریشانی کا خاتمہ ہوتا ہے، کاموں کا بوجھ نہیں ہوتا، کام کے معیار میں فرق نہیں آتا، ذہنی الجھنوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور اعصابی تناؤ سے نجات ملتی ہے۔

غرض کہ نظام الاوقات سے پرسکون زندگی میسر آتی ہے، جبکہ نظام الاوقات مرتب نہ کرنے کی صورت میں زندگی بے ڈھنگ اور بے ترتیب سی گذرتی ہے، جو بہت سی پریشانیوں کا سبب بنتی ہے۔

 خلاصہ

مصروفیت ایک نعمت ہے، بشرطیکہ معیاری ہو۔ نظام الاوقات کی ترتیب زندگی کو منظم اور بامقصد بناتی ہے، جس سے راحت و تسکین میسر آتی ہے۔ بغیر نظام الاوقات کے زندگی بے ترتیب اور پریشان کن ہوتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں