بیٹیوں کی وجہ سے مشقت اٹھانے والوں کے لئے خوشخبری
بیٹیوں کی وجہ سے مشقت اٹھانے والوں کے لئے خوشخبری
اے ، آئی ، یکہتوی
قارئین کرام:
اسلام نے ہمیشہ بیٹیوں کو رحمت اور برکت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں کی پیدائش کو ایک عظیم نعمت قرار دیا اور ان کی پرورش اور تربیت کو والدین کے لیے ایک بہت بڑا اجر بتایا۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں بیٹیوں کی محبت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
بیٹیوں کی پرورش کا اجر:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص کو بیٹیوں کی (پرورش وتربیت) کی وجہ سے معمولی سی بھی تکلیف اٹھانی پڑی تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گی۔" (صحیح البخاری: 1418)
یہ حدیث اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ بیٹیوں کی پرورش اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا ایک بابرکت عمل ہے۔ اس دنیا میں معمولی سے مشقت اور تکلیف کے بدلے اللہ تعالیٰ نے والدین کے لئے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
بیٹیاں: محض تکلیف نہیں بلکہ سکون اور محبت کا ذریعہ:
بیٹیاں والدین کے لیے صرف ذمہ داری نہیں بلکہ محبت، سکون اور خوشی کا ذریعہ بھی ہیں۔ وہ اپنے والدین کے دلوں میں شفقت اور نرم دلی کا بیج بوتی ہیں اور اپنے بھائیوں کے لئے بھی محبت اور قربانی کی مثال بن جاتی ہیں۔
اسلام نے بیٹیوں کے حقوق کو بڑی اہمیت دی ہے۔ ان کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری کو والدین کے لیے ثواب کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ حدیث میں مذکورہ باتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بیٹیوں کی محبت اور ان کی پرورش میں مشقت اٹھانا دراصل ایک عظیم عبادت ہے۔
بیٹیوں کے لئے معاشرتی رویہ:
معاشرے میں بیٹیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اسلام نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ قدیم زمانے میں جب بیٹیوں کو حقیر سمجھا جاتا تھا، اسلام نے ان کو عزت دی اور ان کی پرورش کو والدین کے لیے جنت کا ذریعہ قرار دیا۔ آج بھی ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بیٹیاں ہمارے معاشرے کا ایک قیمتی حصہ ہیں اور ان کی تربیت اور دیکھ بھال ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
نتیجہ:
بیٹیوں کی وجہ سے مشقت اٹھانے والے والدین کے لئے یہ حدیث ایک بہترین تسلی اور امید کا پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک بیٹیوں کی پرورش اور ان کی محبت کا کتنا بلند مقام ہے۔ یہ حدیث ہمیں اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کی پرورش کو دل و جان سے کریں اور ان کے ساتھ محبت اور حسن سلوک سے پیش آئیں تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔
آخری بات:
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی بیٹیوں کی پرورش اور ان کے حقوق کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس حدیث کے مصداق بنائے تاکہ ہم جہنم کی آگ سے بچ سکیں اور جنت کے مستحق بن سکیں۔
تبصرے