خواہشیں نہ ہوتیں تو کتنی حسین گزرتی یہ زندگی

خواہشیں نہ ہوتیں تو کتنی حسین گزرتی یہ زندگی
اسعد اقبال یکہتوی 
قارئین کرام:

انسان کی زندگی میں خواہشات کا ایک اہم مقام ہے۔ یہ خواہشات ہی ہیں جو ہمیں جینے کی ترغیب دیتی ہیں، ہمیں خواب دیکھنے اور ان کی تعبیر کے لئے جدو جہد کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ مگر کبھی کبھی، یہ سوچنا ضروری ہو جاتا ہے کہ اگر ہماری زندگی میں یہ خواہشات نہ ہوتیں تو کیا ہوتا؟ کیا زندگی واقعاً زیادہ خوبصورت اور پر سکون ہو جاتی؟ آئیے اس پہلو پر غور کرتے ہیں۔

 خواہشات کی حقیقت

خواہشات ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کی وجہ فراہم کرتی ہیں۔ ایک کامیاب کیریئر، مالی استحکام، محبت، عزت، اور سکون کی تلاش میں، ہم ہر روز اپنی توانائی صرف کرتے ہیں۔ مگر جب یہ خواہشات حد سے تجاوز کر جاتی ہیں تو ہم اپنی ذہنی سکون اور خوشی کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ہر پل کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی دھن میں مگن رہتے ہیں، اور کبھی کبھی، یہ سفر اتنا طویل اور پیچیدہ ہو جاتا ہے کہ ہمیں اپنی منزل بھی بھولنے لگتی ہے۔

 اگر خواہشات نہ ہوتیں؟

ذرا تصور کریں کہ اگر ہماری زندگی میں کوئی خواہش نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟ کیا ہم واقعی زیادہ خوش ہوتے؟ شاید، زندگی ایک سادہ سی، پر سکون اور اطمینان بخش راہ پر گزر رہی ہوتی۔ ہمیں نہ کسی کامیابی کی جستجو ہوتی اور نہ ہی کسی ناکامی کا خوف۔ ہر دن ایک نعمت کی مانند گزرتا، اور ہم شکر گزاری کے ساتھ زندگی کے ہر لمحے کو جی رہے ہوتے۔

بغیر خواہشات کے، شاید ہمیں دوسرے لوگوں سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی، نہ ہی ہمیں کسی کی نظر میں اونچا مقام حاصل کرنے کی فکر ہوتی۔ ہم اپنے آپ کو جس حالت میں پاتے، اسی میں خوش اور مطمئن رہتے۔ ہماری دنیا میں حسد، نفرت اور لالچ جیسے جذبات کی کمی ہوتی۔

 خواہشات اور سادگی کے درمیان توازن

لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواہشات کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ انسانی فطرت ایسی ہے کہ ہم ہمیشہ کچھ نہ کچھ بہتر کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ تلاش ہی ہے جو ہماری ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھتی ہے۔ مگر ہمیں یہ سیکھنا ضروری ہے کہ خواہشات کو کس طرح متوازن رکھیں تاکہ ہم اپنی زندگی کی سادگی اور خوبصورتی کو بھی برقرار رکھ سکیں۔

اگر ہم اپنی خواہشات کو اپنے مقاصد اور قابلیتوں کے مطابق محدود رکھیں، اور ہر چھوٹے سے چھوٹے لمحے کی قدر کریں، تو ہم اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں حسین بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ زندگی کا حسن صرف بڑے بڑے خوابوں میں نہیں، بلکہ ان چھوٹے چھوٹے خوشیوں میں پوشیدہ ہے جو ہمیں روز مرہ کی زندگی میں ملتی ہیں۔

 اختتامیہ

خواہشات انسان کی زندگی کا ایک حصہ ہیں، لیکن ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی دلچسپ ہے۔ اگر ہم اپنی خواہشات کو کنٹرول میں رکھیں اور سادگی اور شکر گزاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، تو ہم واقعی ایک حسین زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس توازن کو حاصل کرنا ہی اصل خوشی اور سکون کا راستہ ہے۔

خواہشات کے بغیر ایک سادہ، خوبصورت اور پر سکون زندگی کا تصور شاید ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کبھی کبھی، کم ہی زیادہ ہوتا ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں