تکبیر تشریق: روایت کا مستند پس منظر اور حقیقت
تکبیر تشریق: روایت کا مستند پس منظر اور حقیقت
اسعد اقبال یکہتوی
"تکبیر تشریق" کی مخصوص صورت یعنی "الله اکبر الله اکبر، لا إله إلا الله، والله اکبر الله اکبر و لله الحمد" کے پیچھے ایک مقبول عام روایت موجود ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے واقعے سے منسوب ہے۔ اس روایت کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کی تیاری کر لی، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے ایک مینڈھا لے کر آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اسے رکھ دیا۔
اس موقع پر، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے "الله اکبر الله اکبر" کہا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے "لا إله إلا الله و الله اکبر" کہا، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے "الله اکبر و لله الحمد" کہا۔ اسی طرح پوری تکبیر تشریق بن گئی۔
یہ واقعہ "البحر الرائق"، "فتاویٰ شامی"، "ھدایہ" اور "مجمع الأنهر" میں نقل کیا گیا ہے۔ لیکن ان کتب میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ واقعہ "محدثین" کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔
"فتح القدير" میں یہ کہا گیا ہے:
"لم یثبت عند اھل الحدیث ذلك"
یعنی محدثین کے نزدیک اس روایت کا کوئی مستند ثبوت نہیں ہے۔
"نصب الرایہ" میں کہا گیا ہے:
"ھذا ھو الماْثور عن الخلیل علیه السلام قلت لم أجدہ ماْثوراََ عن الخلیلؑ"
صاحب نصب الرایہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ثابت نہیں ہے۔
"البحر الرائق" میں بھی اس کے متعلق بیان کیا گیا ہے:
"و کثیر من الکتب و لم یثبت عند المحدثین کما فی فتح القدیر"
یعنی یہ واقعہ کئی کتابوں میں مذکور ہے، لیکن محدثین کے نزدیک اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
"فتاویٰ شامی" میں بھی یہ صراحت ہے:
"كذا ذکرہ الفقهاء و لم یثبت عند المحدثین کما فی فتح، بحر ای ھذہ القصة لم یثبت"
یعنی فقہاء نے یہ واقعہ نقل کیا ہے، لیکن محدثین کے نزدیک یہ ثابت نہیں ہے۔
خلاصہ:
تکبیر تشریق کی مذکورہ روایت کا کوئی مستند ثبوت محدثین کے نزدیک نہیں ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس روایت کو نقل کرتے وقت اس کی عدم ثبوتیت کو بھی بیان کیا جائے اور صرف مستند روایات پر ہی اعتماد کیا جائے تاکہ صحیح اسلامی تعلیمات کو پیش کیا جا سکے۔
تبصرے