ایک خوبصورت سفر نامہ: 15 جون

ایک خوبصورت سفر نامہ: 15 جون

اسعد اقبال یکہتوی 

قارئین کرام:
مقدمہ
سفر ہمارے دل و دماغ کو نئی جہتوں سے آشنا کرتا ہے اور زندگی کے روزمرہ معمولات سے دور لے جاتا ہے۔ 15 جون کا یہ سفر، مختلف مقامات کی سیر اور دوستوں و رشتہ داروں سے ملاقاتوں کا ایک حسین مرقع تھا۔ اس سفر نامے میں نہ صرف جامع مسجد کی روحانیت اور شاہین باغ کی چہل پہل کو محسوس کیا گیا، بلکہ بٹلہ ہاؤس کی گلیوں اور اوکھلہ کے ناشتہ کی لذت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ سفر، ایک دن کی داستان نہیں بلکہ ان یادگار لمحات کا مجموعہ ہے جو ہمیشہ دل میں زندہ رہتے ہیں۔

فجر کی روشنی میں روانگی:

15 جون کی صبح، فجر کی نماز کے بعد، ایک پرسکون احساس دل میں لیے، میں نے اپنے عزیز دوست ساجد ثناء سے آن لائن گاڑی بکنگ کے سلسلے میں رابطہ کیا۔ ساجد نے جلدی ہی ایک گاڑی کا بندوبست کر دیا۔ میں، دو محترم حضرات اور بیگم پور کی دلکش فضا کو چھوڑ کر اوکھلہ کی سمت روانہ ہو گئے۔

اوکھلہ کی صبح:

اوکھلہ پہنچتے ہی، ساجد ثناء کے مہمان نواز گھر کا دروازہ کھلا ملا۔ ناشتہ کی لذت اور ان کے پرخلوص استقبال نے سفر کی تھکان کو پل بھر میں دور کر دیا۔ چند لمحات آرام کے بعد، ہم شاہین باغ کی طرف روانہ ہوئے۔

شاہین باغ کی محفل:

شاہین باغ میں پہنچ کر، کئی جانے پہچانے چہرے نظر آئے، جن میں میرا خالہ زاد بھائی بھی شامل تھا۔ پرانی یادوں کی خوشبو اور نئی باتوں کا تبادلہ کرتے ہوئے وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ 

بٹلہ ہاؤس کی ملاقاتیں:

شاہین باغ سے بٹلہ ہاؤس کی طرف قدم بڑھائے جہاں میرے ابتدائی تعلیم کے ساتھی سے ملاقات طے تھی۔ ان سے ملاقات نے بچپن کی حسین یادیں تازہ کر دیں۔ ہم نے مل کر بہت سی باتیں کیں اور کچھ دیر کے لیے زمانے کی گردش کو بھول گئے۔

جامع مسجد کی طرف سفر:

بٹلہ ہاؤس سے ہم جامع مسجد کے لیے روانہ ہوئے۔ دہلی کی دھوپ سے لڑتے ہوئے جب مسجد کی عظیم دیواروں کے قریب پہنچے، تو وہاں کی گرمی گویا آسمان سے برستی آگ کی مانند تھی۔

جامع مسجد کا روحانی سفر:

جامع مسجد کے صحن سے گزرتے ہوئے، گرم زمین کو پار کرنا ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ مگر مسجد کے اندر کی روحانیت اور سکون نے تمام تکالیف کو بھلا دیا۔ ہم نے جامع مسجد کے نچلے حصے میں واقع چھوٹی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی۔ 

شکنجی کی تازگی:

نماز کے بعد، تپتی دوپہر کی شدت کو کم کرنے کے لیے ہم نے شکنجی کا مزہ لیا۔ دہلی کی مشہور گلیوں میں تھوڑی بہت شاپنگ بھی کی، جہاں کے بازاروں کی رونق اور خوشبو دل کو موہ لینے والی تھی۔

ہوٹل میں خوشگوار ملاقات:

کھانے کے لیے ایک ہوٹل کا رخ کیا جہاں پہلے سے ایک خوشگوار فیملی موجود تھی۔ ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، ناشتہ کے ذائقے اور مہمان نوازی کے تجربات کا تبادلہ کیا۔ یہ ملاقات بھی ہمارے سفر کا ایک خوبصورت حصہ بنی۔

واپسی کا سفر:

واپسی کے لیے بٹلہ ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں سے بیگم پور کے لیے روانہ ہونے کی تیاری کی مگر گاڑی بھرنے میں دیر لگ رہی تھی۔ دھوپ کی شدت اور گرمی سے بچنے کی جستجو میں، گاڑی والے سے کچھ زیادہ کرایہ کی پیشکش کی تاکہ وہ جلد روانہ ہو سکے۔ بالآخر، ہم اپنی منزل کی طرف چل پڑے۔

بٹلہ ہاؤس میں شاپنگ:

بٹلہ ہاؤس پہنچ کر، تھوڑی دیر شاپنگ کی۔ وہاں کی گلیوں اور بازاروں کی چہل پہل نے ہماری تھکان کو دور کر دیا۔

شاہین باغ کی پناہ:

شاہین باغ واپس پہنچ کر، پہلا کام غسل کرنا تھا تاکہ گرمی اور سفر کی تھکن کو اتارا جا سکے۔ تازہ دم ہونے کے بعد، کچھ دیر آرام کیا اور پھر ساڑھے سات بجے ایک بار پھر گاڑی بک کر کے بیگم پور کی طرف روانہ ہوئے۔

سفر کا اختتام:

بیگم پور پہنچ کر، اس خوبصورت دن کی یادوں کے ساتھ، میں نے سکون کا سانس لیا۔ یہ سفر نہ صرف مختلف مقامات کی سیر بلکہ نئے اور پرانے دوستوں سے ملنے کا بھی ایک خوشگوار موقع تھا۔ ان تمام یادگار لمحات نے 15 جون کو میرے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش کر دیا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں