چائے کی پیالی میں تمہاری یاد کا عکس✍️: ندائے اسعد

چائے کی پیالی میں تمہاری یاد کا عکس

✍️: ندائے اسعد 
شام کے اس وقت چھت پر بیٹھا چائے کا مگ ہاتھ میں لیے آسمان کی طرف نگاہ کیے ہوئے تھا۔ پرندے اپنے گھروں کی جانب جا رہے تھے، اور میں اس نظارے میں محو ہو گیا۔ اچانک ایک سوچ ذہن پر سوار ہوئی، "سفر بھی روز کا ہے اور جانا بھی کہیں نہیں"۔ یہ خیال دل میں آتے ہی چائے کی چسکی کا احساس ہوا اور اچانک تمہاری یاد نے دل کو گھیرا۔ ناجانے تم کہاں ہوگی، کیسی ہوگی؟ کیا تم بھی اسی طرح چائے پیتے ہوئے مجھے سوچتی ہوگی؟

تمہارے وہ الفاظ یاد آتے ہیں، "بنانا کچھ نہیں آتا، بناتی ہوں تو بس چائے بناتی ہوں"۔ کیا واقعی تم اب بھی ویسی ہی ہو؟ ویسے ہی نالائق جسے بس چائے ہی بنانا آتی تھی، یا وقت نے تمہارے دل کی طرح تمہاری عادتوں کو بھی بدل دیا ہوگا؟ ماضی کی ان یادوں میں کھو کر، تمہاری وہ بات اکثر یاد آتی ہے، "جب میں چلی جاؤں گی تو تم ایسے ہی اکیلے گھر کی چھت پر بیٹھے چائے میری یاد میں ٹھنڈی کر دو گے اور ہر جاتے ہوئے پرندے کو دیکھ کر میری ہی یاد میں ٹھنڈی چائے پیا کرو گے"۔

اتنے میں کسی کے آنے کی آہٹ سی محسوس ہوتی ہے اور تب ہی احساس ہوتا ہے کہ چائے ٹھنڈی ہو چکی ہے۔ یوں ایک اور شام ہار کر، تمہاری ان باتوں کے سہارے، ٹھنڈی چائے ہاتھ میں لیے اپنے کمرے کی جانب چل پڑتا ہوں۔ بڑبڑاتا جاتا ہوں، "سفر بھی روز کا ہے، اور جانا بھی کہیں نہیں"۔

یہ معمول بن چکا ہے، ہر روز کا یہی سفر، اور ہر روز کی وہی منزل۔ مگر شاید یہ سفر ہی ہے جو تمہیں یاد دلانے کا بہانہ بنتا ہے۔ یادیں، چائے کی طرح کبھی گرم، کبھی ٹھنڈی، مگر ہمیشہ دل کو گرما دینے والی۔ اس سفر میں، تمہاری یادیں میری چائے کا ذائقہ بنتی رہتی ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں