عید الفطر: روزوں کے بدلے کا دن
عیدالفطر: روزوں کے بدلے کا دن
اسعد اقبال یکھتوی
عربی میں "عید" کے معنی رجوع کرنے یا بار بار لوٹ کر آنے کے ہیں ۔ اسے عید الفطر اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک ماہ روزوں کی تکمیل کے بعد اب مستقل طور پر افطار کا سامان ہو گیا اور کھانے پینے کے دن دوبارہ لوٹ آئے۔ دوسرا عام مفہوم یہ ہے کہ یہ عید، صدقۃ الفطر ہر کلمہ گو پر واجب کر دیتی ہے۔ چاہے اس نے ماہ صیام کے سارے روزے رکھے ہوں یا نہ رکھے ہوں ۔
اللہ رب العزت نے جہاں امت محمدیہ کو اور بے شمار جلیل القدر نعمتوں سے نوازا ہے، وہیں سال میں دو پر مسرت دینی تہوار بھی عطا فرمائے ہیں۔ ماہ صیام کو خداوند کریم کی مقرر کردہ حدود کے اندر گزارنے کے بعد حاصل ہونے والی روحانی رفعتوں اور ملکوتی عظمتوں کے شکرانے کا نام دراصل عید الفطر ہے۔
"عید الفطر" کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب عید الفطر کی رات (چاندرات ) آتی ہے تو ملائکہ خوشی مناتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے نور کی خاص تجلی فرماتا ہے، فرشتوں سے فرماتا ہے: "اے گروہ ملائکہ! اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے اپنا کام پورا کر لیا ہو۔“ (یعنی رمضان المبارک کے تمام روزے پورے کر لیے ) فرشتے عرض کرتے ہیں، اسے پورا اجر دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان سب (روزے داروں ) کو بخش دیا۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ عید الفطر کا دن جب آتا ہے تو فرشتے راستے کے دہانوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اے مسلمانو! سویرے سویرے اپنے رب کی بارگاہ کی جانب چلو، جس نے بھلائیوں کے دروازے تمھارے لیے کھول رکھے ہیں۔ تم کو قیام الیل و نماز تراویح کا حکم دیا تھا، جس کو تم نے پورا کیا اور اپنے رب کی اطاعت کا حق ادا کر دیا۔ پھر جب وہ نماز دوگانہ ادا کر لیتے ہیں تو منادی ندا دیتا ہے کہ مسلمانو! تمھارے رب نے تم کو بخش دیا، جاؤ پاک وصاف ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، یہی یوم الجائزہ ، انعام تقسیم ہونے کا دن ہے اور اسی دن کو آسمان والے (ملائکہ ) بھی "یوم الجائزہ" کے دن سے یاد کرتے ہیں۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ جس نے عیدین کی رات (یعنی شب عید الفطر اور شب عید الاضحی طلب ثواب کے لیے ) قیام کیا ، اس دن اس کا دل نہیں مرے گا، جس دن لوگوں کے دل مرجائیں گے۔
حضرت سیدنا وہب بن منہؓ فرماتے ہیں کہ جب بھی عید آتی ہے، شیطان چلا چلا کر روتا ہے، اس کی بد حواسی دیکھ کر تمام شیاطین اس کے گرد جمع ہو کر پوچھتے ہیں، اے آقا! آپ کیوں غضب ناک اور اُداس ہیں؟ وہ کہتا ہے کہ ہائے افسوس ! اللہ تعالی نے آج کے دن امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دیا ہے لہذا تم انھیں لذتوں اور خواہشات نفسانی میں مشغول کردو۔ (مکاشفۃ القلوب)
عید الفطر مومنوں کیلئے اللہ بزرگ و برتر کا سب سے بڑا انعام ہے، مسلمانوں پر روزے دو ہجری میں فرض کیے گئے، اسی سال فرزندان اسلام نے پہلی عید الفطر منائی اور اس مبارک و مسعود موقع پر اللہ رب العزت کے حضور سجدۂ شکر ادا کیا، آج مسلمانان عالم چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اللہ رب العزت کے حضور سربسجود ہو کر سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔ انشاء اللہ۔
دین اسلام کے کمال کی واضح دلیل یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر موڑ سے متعلق ہدایات دیتا ہے۔ اسلام نے خوشی و مسرت کے اصول مقرر کئے ہیں اور اسی طرح رنج و غم کے بھی۔ اسلام خوشی کے موقع پر تفریحی مشاغل سے روکتا نہیں بلکہ فضول خرچی، غیر ضروری اخراجات و اسراف سے احتراز کرنے کی ہدایت دیتا ہے اور غرباء فقراء اور مساکین کو فراموش نہ کرنے کا بھی درس دیتا ہے، تا کہ وہ بھی عید کی خوشیوں سے بھر پور طور پر لطف اندوز ہو سکیں۔
اسلام نے عید کے تہوار کو ایک انعام کی صورت میں امیر و غریب، آقا و غلام سب کے لیے یکساں خوشی کا دن بنایا ہے اور پوری امت مسلمہ پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عید کی خوشیاں کیسے منانی چاہئیں ۔
تبصرے