خوشگوار زندگی کے پانچ اصول
خوشگوار زندگی کے پانچ اصول
شمائلہ اقبال
خوشگوار زندگی گزارنے کی خواہش کسے نہیں ہوتی۔ کون سکھی نہیں رہنا چاہتا ؟ آپ نے اپنے ارد گرد جو جھمیلے پالے ہوئے ہیں، ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ آپ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ خوش رکھ سکیں۔ اپنی زندگی میں سکون کی چاشنی بھرنے کے لیے آپ کیا کچھ نہیں کرتیں ۔ لیکن پھر بھی آپ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتیں۔ یہ رہنما اصول جو بظاہر عام سے ہیں لیکن ان سے آپ کی زندگی حیرت انگیز طور پر خوشگوار ہو سکتی ہے اور آپ بہت ساری پریشانیوں پر خود ہی قابو پا سکتی ہیں۔ یہ سچ ہے کہ زیادہ تر پریشانیاں آپ کی اپنی پیدا کردہ ہی ہوتی ہیں ۔ خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے پانچ اصول تقریبا پانچ ہزار (۵۰۰۰) برسوں سے انسانی ذہنوں میں منتقل ہوتے آئے ہیں۔ ہاں، یہ دوسری بات ہے کہ آپ ان اصولوں کو اہمیت نہ دیں اور انہیں نظر انداز کر دیں۔ ان اصولوں کا تعلق اخلاقیات سے ہے۔ آپ بھی ان پر عمل کر کے اپنی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھر سکتی ہیں۔ یہ اصول کسی خاص ماحول کے لیے نہیں ہیں۔ بلکہ ہر جگہ اور ہر قسم کے معاشرے میں ان کی اہمیت مسلم ہے ۔ کسی کو نقصان نہ پہنچائیں (اب چاہے اسے نقصان کی نوعیت کچھ بھی ہو) اپنے کام کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ دوسروں کی عزت کریں۔ ہر کام ایمانداری سے کریں، دکھاوے، جھوٹ سے اجتناب کریں۔ دوسروں کے لیے دل میں محبت رکھیں، نفرتوں کو نکال پھینکیں، جی ہاں! یہی وہ پانچ اصول ہیں، جن کی وجہ سے آپ کی زندگی ایک خوشگوار رخ اختیار کر سکتی ہے، آپ سوچ رہی ہوں گی کہ یہ تو عام سی باتیں ہیں ان پر عمل کرنے سے کیا تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے؟ لیکن ایسا نہیں ہے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے دیکھنے میں تو یہ اصول بہت آسان نظر آرہے ہیں لیکن آپ ان پر اس وقت تک عمل نہیں کر سکیں گی جب تک آپ دل و دماغ سے ان کی اہمیت کو تسلیم نہ کرلیں۔ بعض اوقات کسی قسم کے بے جا خوف، غصے یا اور کسی منفی رویے کے سبب آپ بھی ویسا ہی رویہ اختیار کر لیتی ہیں۔ بعض اوقات تو نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ آپ اپنے رویے کی تلافی بھی کرنا چاہتی ہیں لیکن ایسا نہیں ہوپاتا ۔یہ سب کچھ آپ کی جلدی بازی اور غصے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ سب کچھ آپ کی مرضی کے مطابق ہو بلکہ اگر کسی پریشانی کا سامنا کرناپڑے تو آپ کو منفی انداز اور فکر اختیار کر نے کے بجائے ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے۔
ان اصولوں پر اچھی طرح غور وفکر کریں اور یہ سوچیں کہ آپ کس طرح ان کا صحیح استعمال کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بناسکتی ہیں ؟ اگر آپ ان پانچ اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو پھر یہ سوچیں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا الجھنیں ہیں اور آپ کو کس قسم کے رویے پریشان کرتے ہیں؟ آپ دیکھیں گی کہ آپ کے روز مرہ مسائل کا حل ان میں موجود ہے ، ان رہنما اصولوں کی اصلی خوبی یہ کہ یہ ہر قسم کے ماحول اور حالات میں یکساں اہمیت رکھتے ہیں ۔ بعض اوقات تو خواتین اپنی پریشانیوں سے گھبرا کر مختلف قسم کی کتابیں پڑھنی شروع کر دیتی ہیں کہ شاید ان میں ان کے مسائل کا حل موجود ہو۔ اگر آپ بھی ایسا کرتی ہیں تو آج سے پورے یقین کے ساتھ ان اصولوں پر عمل کرنا شروع کردیں ۔ مسائل کا حل کتابوں میں نہیں بلکہ آپ کے اپنے پاس ہوتا ہے جسے آپ ہی حل کرسکتی ہیں ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ بعض خواتین کی روز مرہ زندگی میں اتنی پریشانیاں ہوتی ہیں اور ممکن ہے کہ ایسے لمحات میں وہ ان اصولوں کو فراموش کردیں اور یہ بھی نظر انداز کر دیں ۔ آپ کو سب سے پہلے مسائل کو اپنے اردگرد سے ہٹانا ہوگا اور ان کی جگہ مثبت رویے اپنانے ہونگے ، اس کے لیے آپ کو روزانہ کوشش کرنی ہوگی ۔ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں آپ خوش اسلوبی سے سلجھا سکتی ہیں لیکن محض اپنے منفی رویے کی وجہ سے آپ ان میں بگاڑ پیدا کر لیتی ہیں ۔
ان باتوں سے آپ نے کیا نتیجہ اخذ کیا ؟ اخلاقیات زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں اور یہ اصول اسی پر مبنی ہیں۔ پسندیدہ زندگی ، اچھے لوگ اور ایسی جگہ جو ہماری من پسند ہو، ان سب کی خواہش کسے نہیں ہوتیں ؟ لیکن ان کے حصول میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ اخلاقیات سے انحراف ہے ۔ اگر آپ اخلاقیات پر مبنی ان اصولوں پر عمل کرتی ہیں تو نہ صرف آپ کی زندگی خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گی بلکہ آپ کی اولاد بھی پر عزم انداز میں اپنی زندگی گزارے گی۔ ان میں اعتماد ہوگا جوصرف آپ انہیں دیں گی۔ جس معاشرے میں بے سکونی کی فضا ہوتی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ معاشرہ اخلاقیات کے اصولوں پر انحراف کر رہا ہوتاہے ۔ گھریلو پریشانیاں ، کاروباری جھگڑے ، طلاقیں اور روز مرہ کے جھوٹے جھوٹے مسائل ، یہ سب اس کی مثالیں ہیں۔ اگر اخلاقی اقدار کی اہمیت کو سمجھ لیا جائےتو ہمارے آدھے سے زیاد مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔
تبصرے