شوال کے چھ روزوں کی فضیلت واہمیت

شوال کے چھ روزوں کی فضیلت واہمیت

اسعد اقبال یکھتوی

   رمضان المبارک میں جن خوش نصیبوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ وہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے رُکے رہے، روزے کے مقصد یعنی تقوی کے حصول میں کوشاں رہے اور پھر رات میں قرآن پاک سنتے اور پڑھتے رہے، تو اللہ کے ان نیک بندوں کو یہ سعادت بھی محض اللہ کی توفیق سے حاصل ہوئی۔ اس توفیق کے شکرانے کے طور پر رمضان کے بعد عبادتیں اور بھی رکھی گئی ہیں۔ ایک مالی عبادت یعنی صدقۃ الفطر اور دوسری بدنی عبادت جو کہ رمضان المبارک کی مخصوص عبادت ہے، یعنی ماہ شوال المکرم کے چھ روزے جو کہ مستحب ہیں۔
  شوال کے چھ روزوں میں جہاں ایک حیثیت شکرانے کی ہے، وہاں ان دونوں روزوں کے اندر یہ احساس بھی دلانا مقصود ہے کہ روزے کی عبادت اگر چہ رمضان میں فرض ہے اور اس مہینے میں انسان ماحول کی وجہ سے اور پھر اپنے ذمے کو فارغ کرنے کی خاطر روزے رکھ لیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سال کے گیارہ مہینوں میں بھی وقتاً فوقتاً اس عبادت کو بجالانا چاہیے تا کہ ماحول سے مقابلہ کرنے اور ضبط نفس کی صلاحیت اور بڑھ جائے۔
شوال کے چھ نفلی روزوں کی فضیلت حدیث میں رمضان کے فرض روزوں کو ملا کر سال بھر کے روزوں کے برابر بتائی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت ایوب انصاری کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے ۔“ (صحیح مسلم)
   صحیح مسلم کے شارح امام نوویؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: "رمضان کے روزوں اور پھر شوال کے چھ روزوں کا ثواب سال بھر کے روزوں کے برابر اسی طرح ہوتا ہے کہ بندہ جب ایک نیکی کرتا ہے تو اس کو ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ملتا ہے۔ سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں، جس شخص نے ماہ رمضان کے پورے روزے رکھے، اس کو ان دس مہینوں کے روزوں کا ثواب مل گیا، باقی رہے دو مہینے یعنی زیادہ سے زیادہ ساٹھ دن، چنانچہ جب اس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو ہر روزہ کا ثواب دس دن کے روزوں کے ثواب کے برابر ہوا، لہذا چھ روزوں کا ثواب ساٹھ دن یعنی دو مہینوں کے برابر ہوا ۔ اس طرح سے سال کے پورے بارہ مہینوں کے روزوں کا ثواب مل گیا۔ عید الفطر کے دن کے علاوہ شوال کے پورے مہینے میں کسی بھی چھ دن روزے رکھے جاسکتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ یہ روزے متواتر رکھے جائیں، بلکہ اگر کچھ آخر میں رکھ لیے جائیں تو اس سے بھی یہ سنت ادا ہو جائے گی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں