شبِ قدر کی اہمیت و فضیلت
شبِ قدر کی اہمیت و فضیلت اسعد اقبال یکھتوی
شب قدر دین اسلام میں بہت اہمیت , فضیلت نیز ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ یہ رات قرآن مجید کے نزول کی رات ہے جو کہ مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس رات کو عبادت، دعا، استغفار کی رات کہا جاتا ہے۔
شب قدر کی فضیلت کا ذکر قرآن کریم میں بھی کیا گیا ہے، جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ" (القدر: 1)، یعنی "ہم نے قرآن کو لیلۃالقدر میں نازل کیا"۔
شب قدر کی تعیین قطعاً معلوم نہیں ہوتی، لیکن اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہر سال تلاش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے مسلمان اس رات کو زیادہ تر عبادت، دعا اور استغفار میں گزارتے ہیں۔
شب قدر کی اہمیت و فضیلت کو حدیثوں اور آثار کی روشنی میں بات کرتے ہیں۔چنانچہ:•
1. حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَنْ قَامَ لَیْلَةَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"۔ یعنی "جو شخص شب قدر کو ایمان اور احتساب کے ساتھ عبادت کرے (تہجد و دیگر نوافل میں مشغول رہے) تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
2. ایک حدیث میں وارد ہواہے کہ حضرت علی (رض) نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تَفَرَّقُوا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَابْتَغُوا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِيهَا"۔ یعنی "رمضان کے آخری عشرے میں بکھر جاؤ اور شب قدر کو تلاش کرو۔"
3. ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تَحَرَّوْا لَیْلَةَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ"۔ یعنی "رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو۔"
4. ایک واقعہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے شب قدر کے دوران عبادت کرتے ہوئے فرمایا: "اللهم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی"۔ یعنی "اے اللہ، تو بڑا بخشنے والا ہے اور بخشنے کو پسند کرتا ہے، مجھے بھی بخش دے۔"
واقعات کی روشنی میں بھی شب قدر کی اہمیت بہت بلند ہے، جیسا کہ انبیاء کی زندگی میں مختلف واقعات کا ذکر ہے جو اس رات کے دوران واقع ہوئے۔ اس رات کی عبادت اور دعاؤں کا اجر ان واقعات کی روشنی میں بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔
شب قدر کی روشنی میں مختلف واقعات کا ذکر موجود ہے، چند مندرجہ ذیل واقعات اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں:
1. واقعۂ بدر: بدر کا جنگی واقعہ رمضان کے ماہ میں ہوا تھا اور اس واقعہ میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی فوج نے اہل مکہ کی بڑی فوج کو شکست دیدی۔ یہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رمضان کے ماہ میں بھی مسلمانوں کی عظیم کامیابیاں ہوتی ہیں۔
2. واقعۂ تعریج: شب قدر کے دوران ہجرت کے دوران ایک معجزاتی واقعہ پیش آیا. جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبالِ نور سے راہبری حاصل ہوئی۔ اس واقعہ نے اس رات کی برکت اور عظمت کو ثابت کیا۔
3. واقعۂ قتبہ: اس واقعہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی طرف رجوع کرنے کی بشارت دی۔ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ شب قدر کی برکت سے کون کون اسلام قبول کرتا ہے۔
4. واقعۂ قرآن: شب قدر کے دوران قرآن کا انزال ہوا، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا مدار ہے۔ اس واقعہ نے قرآن کی اہمیت اور شب قدر کی فضیلت کو ثابت کیا۔
یہ واقعات اور حدیثیں شب قدر کی فضیلت کو مزید روشن کرتی ہیں اور مسلمانوں کو اس رات کی اہمیت کو سمجھنے اور اس موقع کا فائدہ اٹھانے پر توجہ دلاتی ہیں۔
اس رات کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں رحمت اور مغفرت کی بشارت دیتے ہیں۔ ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ شب قدر میں دن کے تمام خیرات کو نازل کرتے ہیں۔
شب قدر کو انتہائی عزت دی جاتی ہے اور مسلمان اس رات کو عبادت میں گزارتے ہیں۔ ان کی عبادتوں میں نماز، قرآن کی تلاوت، دعا، زکوۃ اور صدقہ شامل ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
اختتاماً، شب قدر ایک بے مثال رات ہے جس میں مسلمان عبادت اور دعاوں میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس رات کی فضیلت کو سمجھ کر مسلمان اسے انتہائی احترام اور عظمت کے ساتھ گزارتے ہیں۔
تبصرے