رمضان کا نظام العمل
رمضان کا نظام العمل
اسعد اقبال یکھتوی
فضیلت کے لحاظ سے تمام عمر کے روزے بھی رمضان شریف کے ایک روزہ کا بدل نہیں ہو سکتے۔( مفہوم حدیث) اور روزے کو اللہ تعالی کے پاس قیمتی اور سفارشی (ازروئے حدیث) بنانے کے لیے حسب ذیل اعمال ضروری ہیں:
•نماز باجماعت کا اہتمام: جماعت کا ثواب کم از کم 27 درجے ہیں اور رمضان میں (ہر عمل کا ثواب) مزید 70 درجے ہیں۔ •نماز تراویح کا التزام: روزہ تراویح لازم و ملزوم ہے۔ اس لیے بغیر عذر شرعی اس کا ترک گناہ ہے۔ • تلاوت قران کی کثرت: یہ اسی ماہ محترم میں نازل ہوا اور محشر میں مقبول سفارشی ہوگا۔ • ذکر میں مشغولیت: یہ نسخہ ہے کم خرچ بالا نشین۔ مثلا کلمہ طیبہ، درود شریف، استغفار۔ •دعا میں زیادتی: خصوصا بہ وقت افطار، جس میں جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ بھی ہو، نہ صرف اپنے لیے بلکہ ساری امت کے لیے۔ (حزب الاعظم بھی پڑھے تو بہتر ہے)۔ •نوافل کی ادائیگی: کم سے کم تہجد (رمضان میں نفل پر فرض کا اجر ہے) اشراق، چاشت، اوابین وغیرہ مزید بر آں۔ • صدقات میں اضافہ: یہ ہے رزق اور عمر میں برکت کا سبب ہے،یعنی اقرباء مساکین اور اداروں کا تعاون بہ شکل زکوۃ، فطرہ ، ہدیہ، ضیافت وغیرہ۔ • قضا نمازوں کی فکر: سال تمام کے مقابلے میں اس ماہ مقدس میں اس کا اہتمام آسان ہے بالخصوص شب قدر اور طاق راتوں میں۔ • اعتکاف کا انتظام: (آخری عشرہ میں) اس کا اجر گمان سے بالاتر ہے اور اس میں شب قدر کی تلاش آسان بھی ہے۔ • متقی مصنفین کی مستند کتابوں کا مطالعہ: یہ صحبت صالحین کا بدل ہوتی ہے اور انقلاب افری بھی ہے۔ •دعوت دین کی محنت: یہ ہر امتی کی ذمہ داری ہے اور اس ماہ مطہر میں لوگوں کے دل نرم بھی ہوتے ہیں۔ •لغویات سے احتراز: غیبت، جھوٹ ، چغلی، گالی، لڑائی ، بازار گردی وغیرہ کہ یہ سب دیمک ہیں۔
حدیث شریف میں ہے: مَنْ صَمَتَ نَجَا. جو شخص خاموش رہا نجات پایا۔
تبصرے