مدارس اسلامیہ کی اہمیت و افادیت
مدارس اسلامیہ کی اہمیت و افادیت
✍️ اشرف علی مدھوبنی
متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند
قسمتِ نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اِک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مدارس اسلامیہ نے اسلام کی ترویج و اشاعت میں اور اس کی اقدار کے تحفظ میں قابلِ قدر کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ برطانوی دورِ اقتدار میں ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے تہذیبی تشخیصی کی بحالی مدارسِ اسلامیہ ہی کی مرہون منت ہے۔ جب سیاسی و معاشی قوت سے محروم اس ملت کو فکر و تہذیبی یلغار کا سامنا تھا تو ایسے نازک ترین حالات میں مدارس اسلامیہ نے ہی پاسبان کا فریضہ انجام دیا ۔ یہ مدارس اسلامیہ ہندوستانی مسلمانوں کی عزت و آبرو ہیں، ان کی حفاظت کے لئے ہر ممکن جدوجہد کی ضرورت ہے، مدارس اسلامیہ دین کے وہ مضبوط ومستحکم قلعے ہیں جہاں شجرہ روحانیت کی آبیاری ہوتی ہے جہاں ذہنوں کی تطہیر اور نفوس کا تزکیہ ہوتا ہے۔ یہ انسانیت سازی کی فیکٹریاں اور تہذیب و ثقافت کے منبع ہیں بقول مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ " جب ہندوستان میں حکومت مغلیہ کا چراغ گل ہو گیا اور مسلمانوں کا سیاسی قلعہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو بالغ النظر اور صاحب فراست علماء نے جابجا اسلام کی شریعت و تہذیب کے قلعے قائم کر دیئے انہیں قلعوں کا نام مدارس اسلامیہ ہے اور آج اسلامی شریعت و تہذیب ان ہی قلعوں میں پناہ گزیں ہے " ۔
آج ہندوستانی مسلمان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں ان کی زیست سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ خطرہ ان کے دین وایمان اور اسلامی تشخیص کو ہے ان حالات میں امید کا سہارا پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے چھوٹے بڑے دینی مکاتب اور عربی مدارس ہیں ۔
اس بات سے کسی صاحب عقل و بصیرت کو انکار نہیں کہ یہی وہ مدارس ہیں جہاں مستقبل کے معمار تیار کئے جاتے ہیں ۔ یہ اہل مدارس موجودہ تعلیمی مشاغل میں مصروف ہندوستان میں نہایت خاموشی کے ساتھ کاروبار اور سیاست سے دور ملک کو اچھے شہری، با اخلاق انسان مہیا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ان مدارس میں طلباء کو دینی تعلیم ، اخوت و بھائی چارگی، حب الوطنی اور امن و سلامتی کی تعلیم دی جاتی ہے یہاں پڑھایا جانے والا نصاب میں کوئی بھی مضمون ایسا نہیں جس سے نفرت پھیلتی ہو یا کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو بلکہ یہاں کا نصاب احترام، پڑوسیوں کے ساتھ رواداری اور عہد کی پاسداری کی تلقین کرتا ہے یہاں ملک کے قوانین اور اسباب کے محافظ بننے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور ہر وہ طریقہ جس سے انتشار ہوتا ہو اور انسان کی انسانیت پر دھبہ لگتا ہو اس کی مذمت کی جاتی ہے ملک کی خدمت اور اکرام انسانیت کا درس دینے میں مدارس ِ اسلامیہ کی خدمات بالکل نمایاں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دینی مدارس ہمارے ایمان و شریعت، قرآن و حدیث کے قلعے ہیں انہیں مدارس کی چہار دیواری میں دین کے مبلغ مدارس کے چشمۂ فیض سے اپنے سینوں کو منور کر کے پرورش پاتے ہیں، گاؤں گاؤں اور بستی بستی کی سنگلاخ زمینوں کی آبیاری کرتے ہیں اس لیے ان مدارس کی پاسبانی ہمارا اہم فریضہ ہے ان مدارس سے نکلے ہوئے عالم دین اپنے محدود وسائل میں رہ کر معمولی رقم پر کام کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سادہ زندگی بسر کرتے ہیں ان مدارس میں نیکی کرنے اور برائیوں کو ختم کرنے کا سبق سکھایا جاتا ہے ان مدارس میں تو صرف انسانیت سکھائی جاتی ہے۔ اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو ہماری مسجدیں ویران ہو جاتیں ، اذان دینے والا کوئی نہ ہوتا اور نمازِ جنازہ کے لئے بھی کوئی نہیں ملتا یہ کتنا بڑا المیہ ہوتا ہے ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔
ڈاکٹر یونس بلگرامی نے مدارس کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ " مدارس سے بڑھ کر دنیا کا کونسا متحرک و مصروف ادارہ ہے جس کا سرا نبوت سے ملا ہوا ہے اور جو نبوت کے چشمہ سے پانی لیتا ہے اور زندگی کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے اگر مدارس اپنا کام چھوڑ دیں تو زندگی کی کھیتیاں سوکھ کر رہ جائیں " ، ہندوستان میں بسنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کو فخر کرنا چاہیے کہ مدارس کے فیض یافتہ فرزندوں نے بیرون ممالک تک میں میں ہندوستان کا نام روشن کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ ایسی ایسی بر گزیدہ شخصیات گذری ہیں جو ان ہی مدارس کی چہار دیواری سے نکل کر ملک کے علاوہ بیرون ممالک میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوا چکی ہیں۔
جب جب ملت کسی آزمائش سے دو چار ہوئی ، سخت حالات کا سامنا ہوا اسلام دشمن طاقتوں کا سامنا ہوا تب تب تک ان ہی مدارس کے تربیت یافتہ و فیض یافتہ حضرات میدان عمل میں اترے اور ہر ہر محاذ پر صبر و استقلال کا جو ثبوت پیش کیا ہے نہ تو اسے جھٹلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں۔ جب تک یہ گروہ اپنی اصل شکل و صورت میں موجود رہے گا تب تک اس کرۂ ارض سے اسلام کا نام مٹایا نہیں جا سکتا ۔ پورے ہندوستان کو یہ علمی و تاریخی حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ مسلمانوں نے اپنے علمی و تعلیمی اداروں سے پوری دنیا میں علم کی روشنی پھیلائی ہے۔
انصاف پسند مؤرخ اور وطن میں بسنے والا ہر خاص و عام حتیٰ کہ غیر مسلم برادرانِ وطن اور سنجیدہ ذہنیت کے حامل افراد کو یہ احساس ہی نہیں بلکہ اعتراف بھی ہے کہ ان مدارس نے ہی اس ملک کو وحدت و مرکزیت بخشی ہے ان کے علماء نے ملوک و سلاطین کو عدل و انصاف کا پابند بنائے رکھا ہے ۔
مدارس ِاسلامیہ کے بارے میں مفکرین کے افکار
اقبال کی نظر قدر شناس :
ان مکتبوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہیں مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہو گا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں. اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہو گا جس طرح اندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیر وؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا ۔
فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب دامت فیوضہم کے تاریخی جملے
" یہ ایک حقیقت ہے کہ جاں گسل حالات کے باوجود آج اس ملک میں اس شان و شوکت کے ساتھ اسلام کا باقی رہنا دینی مدارس ہی کی دین ہے، اللہ کا شکر ہے کہ مسلمانوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے اور آج ملک کے گوشہ گوشہ میں مخلص اور دین دار مسلمانوں کے تعاون سے ایسی درسگاہیں چل رہی ہیں، یہ ہمارے لئے لال قلعہ سے زیادہ مضبوط ، چار مینار سے زیادہ بلند اور تاج محل سے زیادہ خوب صورت میراث ہے " ۔
مدارس کے نصابِ تعلیم پر ہونے والے اعتراضات کا جائزہ :
بعض لوگوں کی طرف سے بارہا یہ مطالبہ ہوا کہ مدارس کے موجودہ نصابِ تعلیم کے ڈھانچہ کو یکسر بدل دیا جائے اور اس کی جگہ ایک ایسا نیا نصاب رائج کیا جائے کہ جو ان مدارس کے فارغین کی معاشی کفالت کا ضامن ہو، اس طرح کا مطالبہ نہ تو عقل کے موافق ہے اور نہ ہی یہ بات مدارس اسلامیہ کے قیام کے اہداف ومقاصد کے ہم آہنگ ہے، رہی جزوی ترمیم تو یہ علماء دین اور اربابِ مدارس وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔آج سے ساٹھ سال قبل داخل درس نظامی کا نقشہ موجودہ نصاب سے ملا کر دیکھیے، موجودہ نقشہ اس سے یکسر مختلف نظر آئے گا ۔ چنانچہ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب سے جب ایک دفعہ کسی نے نصاب میں تبدیلی کے متعلق دریافت کیا توانھوں نے یوں فرمایا :
” جہاں تک نصاب کا تعلق ہے تو وہ بالکل قابلِ اطمینان ہے، یہ وہی نصاب ہے جس سے بڑے بڑے اکابر علماء تیار ہوئے ہیں؛۱لبتہ جزوی ترمیم وتغیر تو پہلے بھی ہوتی رہی ہے، اورآئندہ بھی ہوگی؛ البتہ جو مصدرِ اصلی ہیں ان میں کسی طرح کے ترمیم کی گنجائش نہیں مابقیہ علومِ آلیہ ہیں، ان میں جزوی طور پر تغیر وتبدیل ہوتا رہا ہے، اس لیے جہاں تک نصاب کا تعلق ہے وہ تو بالکل قابلِ اطمینان ہے“۔(دینی مدارس، ابن الحسن عباسی:۱۱۰)
ہم ان تمام افراد سے جو مدارس کے نصاب ونظام کی مکمل تبدیلی کے طالب ہیں سوال کرتے ہیں کہ کیا کبھی بھی ان میں سے کسی نے اسکول اور کالجز کےٹھیکیداروں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ لوگ وہاں طلباء اور کارکنان کو اس عصری تعلیم سے ہٹ کر تھوڑا سا وقت علیحدہ کرکے، ان کے اسلامی شعور کو بیدار رکھنے کے لیے، دینی تعلیم کا بھی کوئی نظم ونسق کریں؛ تاکہ ان کی ا س دنیا کے ساتھ ساتھ ان کی آخرت کی ابدی اور دائمی طور پرسکون ہو جائے ۔
مدارس کا موجودہ نصابِ تعلیم حذف واضافہ تغیر وتبدل کے مختلف ادوار ومراحل سے گذر کر موجودہ حالت میں آیا ہے، یہ مسلمانوں کی آٹھ سوسالہ علمی وتعلیمی تاریخ کا نچوڑ ہے، اس نصابِ تعلیم میں مختلف وقتوں میں تغیرات ہوتے رہے ہیں اور مختلف اثرات واحوال کے ماتحت اس میں ترمیم وتنسیخ کا عمل جاری رہا ہے تاکہ موجودہ فارغ التحصیل فضلاء میں زمانہ سے ہم آہنگی پیدا ہو اور وہ زمانہ سے قدم بہ قدم ملا کر چل سکیں ۔

تبصرے