شریک حیات کو سمجھیں



شریک حیات کو سمجھیں




یہ ایک فطری امر ہے کہ شادی کے بعد زن و شوہر ایک دوسرے کے لیے مختص ہو جاتے ہیں، مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے جب شادی کے کچھ دن گزر جانے کے بعد جذبات میں سردمہری اور محبت میں کمی واقع ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب دونوں ہی ایک دوسرے سے بیزار و نالاں نظر آنے لگتے یہ حالات دونوں کے لیے ہی نہایت نازک وفگر انگیز ہوا کرتی ہے اور ذراسی بھی غیر ذمہ داری و بے احتیاطی سے گھر کی حالت بڑی ہی دھما کہ خیز ہوسکتی ہے۔ اسی نازک و نا گوار صورت حال سے نمٹنے اور اس سے کلی طور پر چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سطور ذیل میں دیئے جار ہے مشوروں پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کیا جائے اور اپنے گھریلو ماحول کو بہتر بناتے ہوئے اپنی زندگی میں پہلے ہی کی طرح پر بہار فضاؤں و ماحول کی دستک محسوس کی جائے۔



شریک حیات کا دل جیتیے:

یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی شخص سے جو کام زور و جبر سے کرایا جا سکتا ہے، وہ پیارو محبت کے ذریعہ بآسانی انجام دیا جاسکتا ہے۔ پہلے اس کو اچھی طرح سمجھا جائے ، اس کی پسند نا پسند کا خیال رکھا جائے۔ اس کے لیے تحفہ تحائف لائے جائیں، اس کے کام کی تعریف کی جائے ، اس کی خامیوں اور کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جائے ، اس کے ذاتی اوصاف بیان کیے جائیں ، اس کی پسند پر اپنی پسند کو قربان کر دیا جائے۔ اس طرح اگر ہم شادی شدہ زندگی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو یقینا جہاں ایک طرف اپنے گھر کو امن وسکون کا گہوارہ بنالیں گے وہیں شریک حیات کے دل میں بھی جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

شریک حیات کے لیے وقت نکالئے:

عموماً اکثر گھروں میں زوجین کو ایک دوسرے سے یہ شکایت رہا کرتی ہے کہ ہمارے شریک حیات کے پاس ہمارے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ بیوی شوہر کو لے کر جہاں یہ شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ وہ تو اپنے آفس، دوستوں اور والدین و بھائی بہن میں ہی مصروف رہا کرتے ہیں۔ ہمارے لیے تو ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے، تو اسی طرح شوہر کو بھی یہ شکوہ ہوتا ہے کہ میری شریک حیات ہر وقت بچوں اور گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر اگر دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے کچھ وقت مختص کر دیں تو ان کا گھر گہوارۂ امن بن جائے۔

خود سپردگی کا اظھار کیجئے:

شریک حیات کا دل جیتنے کے لیے ایک نہایت اہم وکارگر طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنی شریک حیات کو یہ باور کرائیں کہ شادی کے بعد اب آپ کا اپنا کچھ بھی نہیں رہا ہے بلکہ آپ کی زندگی کے ہر ہر حصے وشعبے پر آپ کے شریک حیات کا مکمل حق ہے اور اب آپ کی اپنی مرضی ، خوشی اور خواہش کچھ اہمیت نہیں رکھتی بلکہ آپ کی زندگی کا مطمح نظر یہی رہے کہ آپ کا مکمل وجود اس کی امانت ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ سب کچھ محض زبانی ہی نہ ہو بلکہ گاہے بگاہے اس کا عملی ثبوت بھی دیجئے اور اس کے لیے کبھی کبھی آپ اپنے شریک حیات کی خوشی کے لیے اپنا قیمتی وقت و سرمایہ بھی قربان کیجیے۔ اپنے کام کو روک کر اس کی خوشنودی حاصل کیجیے ۔ شریک حیات کے ایک اشارے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار رہیے۔ ایسانہ سوچئے کہ اس طرح تو آپ اس کے غلام بن کر رہ جائیں گے، بلکہ اس حقیقت کو سمجھئے کہ اگر آپ اپنی شریک حیات کا دل جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقین جانیے کہ وہ بھی آپ پر اپنا سب کچھ لٹانے کو بے چین ہو اُٹھے گا اور آپ کے عمل سے اس کے دل میں اثر ہونے والے جذبات سے اسے بھی آپ پر بہت کچھ قربان کر دینے پر مجبور کردیں گے اور ایک دن آپ کا یہ جذبہ خود سپردگی و خود نثاری آپ کی زندگی میں خوشیوں کی خوشبوئیں بکھیر دے گا اور پھر اس طرح آپ کی ازدواجی زندگی پر بیمار ہونے کے ساتھ ہی سدا بہار و لازوال نعمتوں کا حسین مرقع بن جائے گی اور آپ اپنے شریک حیات کو دل کے بہت قریب محسوس کریں گے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں