مردوں اور عورتوں کی خوشبو میں فرق
مردوں اور عورتوں کی خوشبو میں فرق
عَنْ أَبِي هُرَيْرَۃَ رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ، وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ، وَخَفِيَ رِيحُهُ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مردوں کی خوشبو ایسی ہو جس کی خوشبو ظا ہر ہو یعنی دوسروں کو بھی پہنچ رہی ہو اور اس کا رنگ پوشیدہ ہو اور عورتوں کی خوشبو ایسی ہو جس کا رنگ نظر آرہا ہو اور خوشبو پوشیدہ ہو (یعنی بہت معمولی خوشبو آ رہی ہو ) (مشکوۃ ۳۱۸ )
تشریح : اس حدیث میں مردوں اور عورتوں کی خوشبو میں فرق بتایا گیا ہے یعنی مرد ایسی خوشبو لگائیں جس سے کپڑے پر رنگ نہ لگے یا ہلکا سارنگ لگ جائے مگر خوشبو تیز ہو، جو دوسروں تک پہنچ رہی ہو مثلاً عطر گلاب، مشک، عنبر، کافور وغیرہ لگالیں اور عوتوں کی خوشبو ایسی ہو جس کا رنگ کپڑے پر ظاہر ہو جائے مگر خوشبو بہت ہی معمولی ہو جو خود اپنی ناک تک پہنچ سکے، یا شوہر قریب ہو تو اس کو خوشبو آجائے ، اوپر حدیث میں فرمایا ہے کہ جو عورت خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس پر گزرے گی اور لوگوں کو اس کی خوشبو آئے گی تو اس عورت کا یہ عمل زنا میں شمار ہوگا، اس بناپر تیز خوشبو لگانے سے عورت کو پرہیز کرنا لازم ہےاور عورت کو تیز خوشبو لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے ، صرف شوہر سے تعلق ہے اس کو سونگھا دینا کافی ہے۔
آجائے ، اوپر حدیث میں فرمایا کھانے سے عورت کو بی اس کافی ہے۔ دیکھئے عصمت اور عفت کو محفوظ رکھنے کے لیے سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کیسے کیسے اصول بتائے ہیں اور کیسی کیسی نصیحتیں کی ہیں، افسوس ہے کہ اس دور کے مسلمان صرف نام کے مسلمان بنے ہوئے ہیں ، دشمنان اسلام جو رنگ ڈھنگ اور بے حیائی اختیار کرتے ہیں، یہ لوگ بھی ان کے پیچھے لگ جاتے ہیں ، اللہ کے پاک نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی چھوڑ کر بے حیاؤں کے پیچھے لگ جاتا ایمان کے دعویداروں کو کہاں تک زیب دیتا ہے؟ خودہی غور کرلیں۔


تبصرے