سہ روزہ فقہی سیمینار: مشاہدات و تاثرات
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سہ روزہ فقہی سیمینار: مشاہدات و تاثرات
محمد ارشد ربانی مکی
متعلم : تخصص فی الفقہ و الافتاء،دار العلوم وقف دیوبند
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 32/واں فقہی سیمینارپلاپٹی، ضلع کرور، صوبہ تمل ناڈوکے’’ الجامعۃ الاسوۃ الحسنۃ‘‘ میں تین اہم موضوعات (1) حرام اشیاء کے متعلق بعض مسائل(2) تشبہ کے متعلق بعض مسائل(3) سرمایہ کاری کے متعلق بعض مسائل پر18-20نومبر 2023ء بروز ہفتہ ،اتوار اور پیرکو منعقد ہوا۔ان تمام موضوعات پر بحث کے لئے ملک کے مختلف حصوں سے علماء کرام و فقہاء عظام کی ایک بڑی جماعت اکٹھا ہوئی اور ّمکمل شرح و بسط کے ساتھ ہر مسئلہ کی باریکی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس پر مناقشہ کے بعد حتمی تجویز متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔
اس پروگرام کی پہلی نشست افتتاحی تقریب کے لئے منعقد ہوئی ،دوسری نشست میں حرام اشیاء کے متعلق بعض مسائل پر بحث و تمحیص ہوئی جس کی نظامت حضرت مولانا مفتی امانت علی قاسمی صاحب کے ذمہ تھی اور عرض مسئلہ مولانا کلیم اللہ عمری ، مفتی امانت علی قاسمی اور حضرت مولانا اشتیاق احمد اعظمی صاحب نے پیش کیا اور حضرت مولانا عبید اللہ اسعدی صاحب اس مجلس کی صدارت فرما رہے تھے۔تیسری نشست میں تشبہ کے متعلق بعض مسائل زیر بحث تھی اور اس مجلس میں عرض مسئلہ کو چار محور پر تقسیم کیا گیا تھا ، پہلا محور پیش کرنے کے لئےحضرت مولانا محبوب فروغ صاحب کو مدعو کیا گیا اوردوسرامحور پیش کرنے کے لئے حضرت مولانا خالد حسین نیموی صاحب تشریف لائے اور تیسرا محور پیش کرنے کی ذمہ داری شاہ حہاں ندوی کی تھی جو کسی عذر کے باعث تشریف نہ لا سکے تو ان کی طرف سے حضرت مولاناناد رصاحب نے پیش کیا اور محور چہارم پیش کرنے کے لئے حضرت مولانا اقبال صاحب تشریف لائے،اس مجلس کی صدارت حضرت مولانا عتیق احمد بستوی صاحب نے کی۔ اورچوتھی نشست میں سرمایہ کاری کے متعلق بعض مسائل پر گفتگو ہوئی ، جس میںحضرت مولانا اختر امام عادل صاحب اور حضرت مولانا عثمان صاحب بستوی نے عرض مسئلہ پیش کیا، نیز اس مجلس کی نظامت بھی مفتی عثمان صاحب نے ہی انجام دی ،جب کہ اس مجلس کی صدارت حضرت مولانا احمد دیولا صاحب فرمائی ،اور آخری نشست کی صدارت حضرت مولانا سفیان قاسمی صاحب فرمائی، جس میں متفقہ تجاویز منظور ہوئیں اورحضرت کی دعا کے بعد مجلس کا اختتام عمل میںآیا۔
سیمینار میں شرکت کی غرض سے بروز بدھ بعد نماز مغرب دیوبند سے روانگی ہوئی اور جمعہ کی رات تقریبا گیارہ بجے ڈن ڈیگل اسٹیشن پر ہماری گاڑی پہنچی، وہاں کے باشندوں نے ہم لوگوں کا پرتپاک استقبال کیا، پھر مکہ مسجد میں عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد کھانے کا نظم و نسق کیا گیا اور وہاں سےالجامعۃ الاسوۃ الحسنۃ پلاپٹی کی جانب روانگی ہوئی جہاں پروگرام کے انعقاد کا انتظام و انصرام کیا گیا تھا، استقبالیہ کمیٹی نے رہائش گاہ کے لئے ہماری رہنمائی کی جہاں ہمیں فورا ساز و سامان کے ساتھ پہنچا دیا گیا اور ہر طرح سے راحت رسانی کا سامان فراہم کیا گیا، وہاں کے طلبہ کی مہمانوں کے تئیں خلوص و محبت قابل تعریف اور لائق تقلید رہی، وہ پلک جھپکنے کے بقدر بھی اپنی ذمہ داریوں سے اوجھل نہیں ہوئے، جس کو جس کام پر مامور کیا گیا تھا مکمل انہماک اور چستی سے اس پر ڈتے رہے۔صبح 9 بجے ناشتہ کے بعد افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم محمد اسماعیل نے اپنی خوش الحان آواز میں تلاوت کلام الٰہی سے مجلس کا آغاز کیا، نعت شریف گنگنانے کے لئے جامعہ کے استاذ کو دعوت دی گئی، انہوں نے بہت اچھوتے انداز میں نعت نبی پڑھا، افتتاحی مجلس اور دیگر تمام نشستوں میں علماء کی ایک بڑی جماعت اسٹیج پر جلوہ افروز تھی اور قابل قدر شخصیات اس مجمع کی زینت بنے ہوئے تھے، علاقائی مہمانوں کا بھی بڑا جماوڑا موجود تھا، اس مجلس میں جامعہ کے ناظم حضرت مولانا زکریا صاحب نے تفصیلی اور تاریخی خطبۂ استقبالیہ پیش کیا جس میں صوبہ تامل ناڈو اور شہر ڈن ڈیگل اور خاص طور پر پلاپٹی کی تہذیبی، تاریخی، علمی، ادبی، مذہبی اور سیاسی تاریخ سے پورے مجمع کو واقف کرایا گیا جو یقینا رشک کے قابل ہیں، اس مجلس کی نظامت کی ذمہ داری مولانا صفدر زبیر ندوی صاحب سنبھال رہے تھے اور اسٹیج پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب( صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب (شیخ الحدیث جامعہ عربیہ ہتھوڑا باندہ) حضرت مولانا عتیق احمد بستوی (استاذ حدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء) حضرت مولانا انیس الرحمن صاحب( صدر آل انڈیا ملی کونسل) حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی( سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) اور ان کے علاوہ بھی مختلف چنیدہ شخصیات اسٹیج پر جلوہ افروز تھی، اس پروگرام میں خاص طور مہمانان کرام کی آمد پر ان کا استقبال اور خیر مقدم کیا گیا، مجلس کے اختتام پر ظہر کی نماز کے بعد کھانے کا نظم کیا گیا جس میں مختلف قسم کی غذائیں موجود تھیں، جن سے میزبانوں کی وسعت ظرفی اور سخاوت و فیاضی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا اور ہر وقت کے کھانے میں مہمانوں کی رعایت رکھی گئی تھی حتی الوسع ان کے مزاج کے قریب تر غذا کا انتظام اور اہتمام کیا گیا۔
یہ سفر نہایت بیش بہا،سود مند اور علم و آگہی سے لبریز رہا، جن شخصیات کا تذکرہ کتابوں ،مجلات و رسائل میں پڑھتا تھا ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، ان کی قربت اور علمی ضیاء پاشی سے استفادہ کا موقع ملا، بہت سی شخصیات کے رو برو خود استاذ محترم حضرت مولانا مفتی امانت علی قاسمی( استاذ دارالعلوم وقف دیوبند )نے آگے بڑھ کر تعارف کرایا ،جو یقینا میرے لیے سند کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس علمی سفر میں جن شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ان میں سے بعض کا تذکرہ بطوریادداشت پیش کرنا اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ،حضرت مولانا سفیان صاحب قاسمی، حضرت مولانا عتیق احمد بستوی، حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی، حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی، حضرت مولانا عبید اللہ اسعدی ،حضرت مولانا عثمان صاحب بستوی ،حضرت مولانا فہیم اختر ندوی، حضرت مولانا اختر امام عادل قاسمی ،مفتی محبوب فروغ صاحب قاسمی، حضرت مولانا ثناء الہدی قاسمی، حضرت مولانا صابر حسین ندوی ا ور حضرت مولانا شاہد حسین قاسمی مدھوبنی اور ان کے علاوہ بھی ملاقات کی ایک طویل فہرست ہے ،جن سے ملاقات اور تعارف کا حسین موقع ملا۔اس موقع پر میں خاص طور پر حضرت مولانا ڈاکٹر محمد شکیب صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کی خاص توجہ کے باعث یہ سفر ممکن ہو سکا اور فقہ اکیڈمی کے ذمہ داروں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اس حقیر اور ادّنی طالب علم کو بھی کبار علم علماء کی معیت میں بیٹھنے کا موقع عنایت کیا، اور ان سےاستفادہ کی راہ ہموار کی، اور الجامعۃ الاسوۃ الحسنۃ کے منتظمین کا کہ انہوں نے اپنی بصیرت سے حد سے زیادہ عمدہ نظم کیا، اور تمام خادمین کا کہ انہوں نے ہر قسم کی سہولت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی، اور اخیر وقت تک خدمت کے جذبہ سے لبریز اور متحرک رہے۔
خداوند اس پروگرام کے انعقاد اور اس کی کامیابی پر ان کی مخلصانہ اعمال کو شرف قبولیت بخشے اور ان تمام کے مستقبل کو تابناک اور روشن کرے۔ (آمین)

تبصرے