عبادات میں اخلاص مطلوب ہے

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

عبادات میں اخلاص مطلوب ہے

محمد ارشد ربانی مکی

متعلم تخصص فی الفقہ و الافتاء، دار العلوم وقف دیوبند 



اللہ رب العزت نے بندوں کو اس طرح عبادت و اطاعت کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنی عبادت میں اپنی نیت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص رکھے، یہ اخلاص نیت عبادت کے لئے بہت ضروری ہے؛ کیوں کہ اسی پر ثواب کا دار و مدار ہے، اس کے مقابلہ میں ریا ہے، اگر عبادات میں بندہ اللہ کی رضا کے علاوہ کسی اور چیز کا خواستگار ہو تو اس کو ریا کہتے ہیں، جس کو اللہ کے رسول ﷺ نے شرک اصغر سے تعبیر کیا ہے، چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا: الریاء الشرک الاصغر (ریاکاری شرک اصغر ہے) عبادت میں ریاکاری بالاتفاق حرام ہے اور اس پر نص قطعی مذکورہ حدیث موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں عبادت کو اخلاص کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، علامہ بدر الدین عینی ؒ نے بخاری کی شرح میں اخلاص کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہے: عبادت میں اخلاص یہ ہے کہ بندہ ریا کو چھوڑ دے اور اخلاص یہ دل کی کیفیت ہے یعنی اخلاص کا محل اور مقام انسان کا دل ہے۔ 

یہ بات مسلم ہے کہ انسان کی عبادت و ریاضت میں اخلاص انتہائی ضروری ہے؛ تاہم عبادت کی صحت و عدم صحت اخلاص پر موقوف نہیں ہے کہ اس کے بغیر اس کی عبادت درست ہی نہ ہو، عبادت کی صحت اور عدم صحت یہ ارکان و شرائط پر موقوف ہے، اور اخلاص ارکان و شرائط میں سے نہیں ہے اس کے باوجود اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، انسان کو عبادت سے مقصود دراصل ثواب پانا ہوتا ہے اور یہ ثواب کا ملنا اخلاص پر موقوف ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی نے بغیر اخلاص کے تمام ارکان و شرائط کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے کسی فریضہ کو انجام دے تو وہ فرضیت اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی، کتب فقہ میں اس کی صراحت موجود ہے: جیسا کہ فقیہ ابو اللث ؒ نے نوازل میں کہا ہے کہ بعض مشائخ نے کہا: کسی فریضہ میں ریا داخل نہیں ہوتی ہے، یہی درست اور صحیح مذہب ہے۔ یعنی ریا کے باوجود فرض ذمہ سے ساقط ہو جائے گا-

ریا کی دو قسمیں ہیں:

(۱) ریا اصل عبادت میں ہو۔

(۲) ریا اصل عبادت میں نہ ہو؛ بلکہ اس کے کسی وصف میں ہو۔

اصل عبادت میں ریا یہ ہے کہ وہ لوگوں کی وجہ سے نماز پڑھیں، اس طور پر کہ اگر لوگ نہ ہوتے تو یہ نماز بالکل نہیں پڑھتا تو یہ اصل عبادت میں ریا ہے، اس صورت میں نماز کی فرضیت اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی؛ لیکن اس کو نماز کا ثواب بالکل بھی نہیں ملے گا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اصل عبادت میں ریا نہ ہو؛ بلکہ اس کے کسی حصہ میں ریا شامل ہو گئ ہو، اس طور پر کہ وہ لوگوں کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ رہا ہے؛ لیکن اگر لوگ نہ ہوتے تو وہ اس طرح طویل قیام و رکوع و سجود کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا؛ بلکہ ان ارکان کو جلدی جلدی ادا کرلیتا، اس صورت میں اس کو اصل عبادت یعنی نماز کا ثواب ملے گا؛ لیکن جو تحسین اس نے لوگوں کی وجہ سے پیدا کی ہے اس کا ثواب اس کو نہیں ملے گا۔

علامہ ابراہیم بن یوسف ؒ نے ینابیع میں لکھا ہے کہ: اگر کسی نے ریا کے ساتھ نماز ادا کی تو اس کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا اور نماز میں ریا شامل کرنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا، جب کہ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس کو نہ تو نماز کا ثواب ملے گا اور نہ ہی ریا کی وجہ سے گناہ ہوگا، یوں سمجھا جائے گا کہ گویا اس نے نماز ہی نہیں پڑھی۔

ایک اہم اور فرض عبادت روزہ ہے اور روزہ میں ریا داخل نہیں ہوتی ہے؛ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو دکھائی نہیں دیتی، بظاہر اس میں کسی فعل کو انجام دینا نہیں ہوتا ہے؛ بلکہ ایک خاص قسم کا امساک اس میں پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ریا اس میں شامل نہیں ہوتی ہے؛ ہاں! جب کبھی کوئی اس کو بغیر ضرورت کے بیان کرے کہ( میں روزہ دار ہوں )تو اس میں ریا شامل ہو جاتی ہے، یہ صورت مستثنی ہے؛ کیوں کہ اس میں ریا نفس امساک کی وجہ سے نہیں آئی ہے؛ بلکہ ریا کاسبب یہ ہے کہ اس نے بغیر ضرورت کے اس کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے۔ 

معلوم یہ ہوا کہ بغیر اخلاص کے بھی محض ارکان و شرائط کی رعایت کے ساتھ جو نمازیں ادا کی گئیں ہوں وہ فرضیت ذمہ سے ساقط ہو جاتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس کی وجہ سے وہ ثواب کا مستحق نہیں ہوتا ہے، گویا نماز کی صحت اور حصول ثواب کے درمیان کوئی تلازم نہیں ہے؛ کبھی کبھار نماز صحیح ہوتی ہے؛ لیکن ثواب نہیں ملتا، جیسا کہ اخلاص کے فقدان کے وقت ہوتا ہے، اور کبھی کبھی ثواب بھی ملتا ہے اور نماز بھی صحیح ہوتی ہے، جیسے کوئی آدمی نماز کو تمام ارکان و شرائط کے ساتھ پڑھیں اور اس میں اپنی نیت کو بھی خالص رکھے، اور کبھی کبھی ثواب تو ملتا ہے؛ لیکن اس کی نماز درست نہیں ہوتی ہے جیسا کہ اگر کوئی آدمی لاعلمی میں ناپاک پانی سے وضو کرکے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز اگرچہ ادا نہیں ہوئی؛ لیکن اس کے اخلاص نیت کی وجہ سے اس کو اس نماز کا ثوا ب ضرور ملے گا اور چوں کہ نماز ناپاک پانی سے وضو کرکے پڑھی گئی ہے؛ اس لئے یہ نماز درست نہیں ہوئی اور اس پر نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہوگا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں