گھروں میں داخلہ کے وقت طلب اجازت


 گھروں میں داخلہ کے وقت طلب اجازت


اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے میرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو، جب تک اجازت نہ لے لو اور ان میں بسنے والوں کو سلام نہ کر لو یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے، امید ہے کہ تم خیال رکھو گے ( آسان ترجمہ قرآن)

 وضاحت: آیات کریمہ میں اسلامی معاشرت کے کچھ زریں ضابطے بیان ہوئے ہیں، ان کا تعلق دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینے سے ہے۔ 

ان قرآنی ضابطوں سے پہلے یہ حقیقت ذہن نشین کرنی چاہیے کہ گھر انسانوں کے لیے اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ ان گھروں کا مقصد راحت، آرام، سکون اور اطمینان ہوتا ہے۔ اپنے گھر میں ہر انسان ہر طرح سے آزاد ہوتا ہے، اپنی مرضی سے اپنی منشاء کے مطابق اٹھتا بیٹھتا، سوتا جاگتا ہے، نیز طرح طرح کی مشغولیاں رکھتا ہے۔ اپنے گھر کی اس آزادی میں وہ کسی غیر کا دخل برداشت نہیں کرتا ہے کسی غیر کی مداخلت سے اس کی راحت اور آزادی میں خلل پڑے گا، اسے تکلیف ہوگی اور گھر کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ 



اس لیے قرآن کریم نے طلب اجازت کے احکام بیان فرمائے کہ ایک دوسرے کے یہاں آنا جانا انسانی ضرورت ہے۔ تو اب یہ آنا جانا اس طرح سے ہو کہ جس کے گھر میں جایا جائے۔ اسے تکلیف بھی نہ پہنچے اور جانے والے کی غرض بھی پوری ہو جائے۔

 اجازت مانگنے میں بہت ساری مصلحتیں ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ اجازت لے کر داخل ہونے سے انسان ملاقات کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور آنے والے کی شائستگی دیکھ کر اس کی طبیعت حاجت روائی پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ اس صورت کے بر خلاف جب کوئی کسی کے گھر میں وحشیانہ طریقے سے بلا اجازت مانگے گھس جاتا ہے تو گھر والے کی طبیعت مکدر ہو جاتی ہے۔ پھر اگر وہ آنے والے کی بات سنتا بھی ہے، تو بشاشت سے نہیں سنتا ہے اور جلد از جلد دفع کرنا چاہتا ہے۔ اجازت مانگنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کسی غلط جگہ پر نظر نہیں پڑتی اور نہ ہی کسی ایسی بات کی اطلاع ہوتی ہے، جسے صاحب خانہ چھپانا چاہتا ہو۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں