بیت المقدس اور فلسطین کے حوالے سے یورپین افتاء کونسل کا فیصلہ
بیت المقدس اور فلسطین کے حوالے سے یورپین افتاء کونسل کا فیصلہ
امانت علی قاسمی
استاذ دارالعلوم وقف دیوبند
اس وقت مسئلہ فلسطین پوری دنیا کے مسلمانوں کی توجہ کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔آج ہر درد مند مسلمانون کا کلیجہ نکلا جا رہا ہے۔ذہن و دماغ پر فلسطینی بچوں کے لہو ،کفن میں لپٹی لاشیں ،درد سے کراہتی ان کی آہیں ،مکانات کے ملبے سے باہر آتے انکے ہاتھ ،جسموں سے رستے خون ،بموں کی گھن گرج کے سایے میں ان کی معصومیت ،ماؤں کے اجڑے گود،مکانوں پر گرتے فولادی بم اورعام شہریوں پر ٹینکوں اور توپوں کی بکتر بند گاڑیوں سے اندھا دھند حملون نے سارا سکون غارت کردیا ہے ،راتوں کی نیندیں لے لیں اور دنوں کا سکون چھین لیا ہے اور یہ کیفیت کسی ایک دو مسلمانوں کی نہیں کسی ایک شہر کے مسلمانوں کی نہیں پوری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کی ہے جو لوگ کر سکتے ہیں کر رہے ہیں شہروں اور گاؤں میں بچے روزہ رکھ رہے ہیں دعائیں کر رہے ہیں قنوت نازلہ کا اہتمام ہو رہا ہےاسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ہو رہا ہے اسلام نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جس اخوت کے رشتے میں باندھ دیا ہےاور جس طرح پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک جسم قرار دیا ہے اس کا فطری تقاضا یہی ہے اس لیے ہندوستان کے مسلمان ہوں یا مراکش کے، تنزانیہ کے ہوں یا افریقہ کے دوسرے ملکوں کے ، یورپ کے ہوں یا ایشیاء کے، عرب کے ہوں یا عجم کے بلکہ اس مرتبہ انسانیت کا جس طرح قتل ہوا ہے اس نے مغرب کے یہود کو بھی شرمسار کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ عرب سے زیادہ اس انسانی خون ریزی کے خلاف یورپ میں احتجاجات ہو رہے ہیں ہاں کچھ عرب حکمرانوں کی بے حسی کو دیکھ کر دکھ ضرور ہوتا ہے ان کی بے فائدہ مٹنگوں کو دیکھ کر لگتا ہے کاش انہوں نے اس پر اجلاس نہ بلایا ہوتا اور مسلم حکمرانوں کا کم از کم بھرم باقی رہ جاتا کہ مسلم حکمراں اس سفاکیت و درندگی پر چراغ پا ہیں ان کا خون کھول رہا ہے لیکن اس اجلاس نے تو یہ ثابت کیا کہ ان کا خون پانی ہوچکا ہے اس سے تو یورپ کے علماء بہت بہتر ہیں جنہوں نے 2001میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ آئرلینڈ کے اپنے سالانہ اجلاس میں کیا تھا اور 2000میں آئر لینڈ کے سالانہ اجلاس میں القدس اور مسئلہ فلسطین پر تاریخی فیصلہ کیا جس کا عنوان ہے
القدس سے دست برداری اللہ ، رسول اور اہل ایمان سے غداری ہے ۔
اس فیصلے کا متن ملاحظہ فرمائیں
ارض اسلام کے کسی جزء سے دست برداری کسی کے لئے جائز نہیں ، کیونکہ ارض اسلام کے سلسلے میں کسی رءیس کسی امیر کسی وزیر یا کسی جماعت کو یہ حق نہیں کہ وہ حالات کے جبر اور دباؤ کے باعث اس سے دست بردار ہو جائے۔ تمام افراد اور جماعتوں پر ممکنہ وسائل کے ساتھ غاصبانہ قبضہ کا مقابلہ اور بیت المقدس کو آزاد کرا کے اسے دار الا سلام میں لوٹانا واجب ہے۔ اگر امت کی ایک نسل اس فرض سے عاجز ہو جائے یا اس سے غفلت برتے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ قیامت تک کی آنے والی نسلوں پر بھی وہ اپنی یہ بے بسی اور غفلت تھوپے، اس لئے کونسل کا فتوی ہے کہ القدس یا فلسطین کی کسی بھی جگہ میں دشمنوں کے ہاتھ زمین بیچنا یا وہاں کے گھر سے بے گھر کئے گئے پناہ گزینوں کی طرف سے معاوضہ قبول کرنا حرام ہے، کیونکہ دار الا سلام سے دست برداری یا اس کا معاوضہ لینا کسی بھی حال میں جائز نہیں ، جو ایسا کرے گا وہ اللہ ، رسول اور اہل ایمان سے خیانت کرے گا۔ یہ حکم عام اسلامی اراضی کا ہے اور جب معاملہ قدس شریف کا ہو جو قبلہ اول، مسجد اقصی کا شہر اور مکہ ومدینہ کے بعد تیسرا بڑا اسلامی شہر اور اسراء و معراج کی سرزمین ہے، جس کی اہمیت اور برکت کے لئے یہ کافی ہے کہ قرآن نے کہا: (سبحان الذي أسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا ) (سورہ اسراء) (پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تا کہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے ) تو بات اور نازک ہو جاتی ہے۔
اسی وجہ سے مسلمان مشرق میں ہوں یا مغرب میں القدس ان کے دلوں میں ہے۔ وہ اس سے تعلق و محبت رکھتے ہیں۔ اس کے محترم مقامات کو مقدس سمجھتے ہیں اور اس کے معاملات سے زبردست دلچسپی لیتے ہیں، اسی وجہ سے مسئلہ فلسطین مسلمانان عالم کی پہلی ترجیح ہے، اس کے لئے وہ لڑ رہے ہیں اور اس کے راستہ میں ہر قسم کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ القدس صرف فلسطینیوں کا نہیں وہ تمام مسلمانوں کا ہے، عرب ہوں یا عجم، اسی طرح وہ تمام عربوں کا ہے،
مسلمان ہوں یاعیسائی۔
فلسطینیوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تنہا القدس کا فیصلہ کرلیں اور مسلمانان عالم کو نظرانداز کر دیں لیکن ساتھ ہی تمام مسلمانان عالم پر بھی یہ واجب ہے کہ وہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کے تحفظ کے لئے جو بھی بن پڑتا ہو کریں، یہ سب کا اجتماعی فرض ہے، سب کے اپنے تمام وسائل اس کی حفاظت کے لئے اکھٹا کرنے ضروری ہیں، ورنہ سب گنہ گار ہوں گے، جیسا کہ فرمایا گیا: يا أيها الذين آمنوا مالكم إذا قيل لكم انفروا في سبيل الله اثاقلتم إلى الأرض أرضيتم بالحياة الدنيا من الآخرة فما متاع الحياة الدنيا في الآخرة إلا قليل إلا تنفروا يعذبكم عذاباً أليماً ويستبدل قوماً غيركم ولا تضروه شيئاً والله على كل شيء قدير ) (سورہ تو بہ ) (اے ایمان والو تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ چلو اللہ کے راستہ میں کوچ کرو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو، کیا تم آخرت کے عوض دنیا کی زندگی پر ہی ریجھ گئے ہو سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلہ میں کچھ یونہی سی ہے، اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اللہ تعالی دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل لائے گا، تم اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے )۔
اس سے پہلے بھی جب صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا تو اس کی آزادی کے لئے غیر عرب مسلمانوں نے ہی کام کیا تھا مثلاً عمادالدین زنگی ، ان کے بیٹے نورالدین زنگی شہید
اور ان کے شاگرد صلاح الدین ایوبی کردی جن کے ہاتھ پر اللہ نے القدس کو آزاد کیا اور آج بھی پوری دنیا میں ایک ارب تیس کروڑ سے زائد مسلمان القدس کے نام پر قربانیاں دینے کے لئےتیار ہیں۔ یہ جذبہ مشرق میں فلپائن اور انڈونیشیا سے لے کر مغرب عربی میں موریتانیا تک دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر بعض مسلمان حکمرانوں کی طرف سے اس قسم کے جذبہ کا کوئی اظہار نہیں ہوتا تو یہ افسوس ناک بات ہے۔ القدس دار الاسلام، ارض اسلام اور وطن اسلام کا ایک حصہ ہے، مسلمان یہاں چودہ سو سال سے رو رہے ہیں۔ انہوں نے اسے یہودیوں سے چھینا نہیں تھا، کیونکہ ان کی فتح سے سینکڑوں سال پہلے یہاں سے یہودیوں کا وجود ختم ہو چکا تھا، ان کی سلطنت بھی سینکڑوں سال پہلے ختم ہو چکی تھی ، ان کی حکومت فلسطین میں صرف چند سو سال ہی رہی، جبکہ یبوسی عرب ہزاروں سال یہاں رہے۔ حضرت عمر بن الخطاب نے اسے عیسائی پیٹر پارک صفر نیوس سے لیا تھا اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کی ایک شرط یہ تھی کہ یہاں یہودی نہ رہیں گے ، اس لئے القدس پر مسلمانوں، عربوں اور فلسطینیوں کا کنٹرول ہونا ضروری ہے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کو پوری آزادی اور رواداری سے یہاں مذہبی رسوم ادا کرنے کی اجازت ہوگی جیسا کہ اسلام کا دستور اور تعامل رہا ہے: والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون ) (سوره یوسف ) ( اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتےنہیں ہیں)۔

تبصرے