بچوں کی تعلیم وتربیت وقت کی اہم ترین ضرورت
بچوں کی تعلیم وتربیت وقت کی اہم ترین ضرورت
اس ترقی یافتہ دور میں کم سن بچوں کا جس طرز پر استحصال ہو رہا ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے اس کا ایک سبب تو اقتصادی بدحالی ہے جس کے باعث والدین اس کے لئے مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ننھے منے بچوں کو کام کیلئے بھیجیں تاکہ وہ دو پیسے کما کرلائیں اس اقتصادی بدحالی کے سبب وہ تعلیم کی طرف تو سوچ ہی نہیں سکتے لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ بچے ایسے مذموم اور محنت طلب کاموں کیلئے مجبور کئے جاتے ہیں جو بچوں کی شخصیت اور احساس ذمہ داری کو نہ صرف ختم کر دیتے ہیں بلکہ ان میں جرائم کا مادہ پیدہ کر دیتے ہیں، آج بہت سے بچے ناداری کے سبب ہوٹلوں میں برتن صاف کرنے، گھریلو خدمات انجام دینے فیکٹریوں میں مضر صحت کام انجام دینے کیلئے مجبور نظر آتے ہیں ۔ اس کے باوجود بھی ان کو جو محنتانہ ملتا ہے وہ نہ صرف ان کے لئے ناکافی ہوتا ہے۔ بلکہ
اس سے وہ دو وقت کا کھانا بھی پیٹ بھر کے نہیں کھا سکتے ، پوشاک اور دیگر ضرورتوں کی تکمیل تو درکنار، کچھ کمسن بچوں سے خاکروبی قلی گیری اور رکشا چلانے وغیرہ کا کام لیا جاتا ہے جس سے ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے اور ملک کی بیش بہا دولت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں ملکی قوانین قطعی ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ چائلڈ لیبرایکٹ کم سن بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے انصاف کا قانون وغیرہ کی کارکردگی اس بارے میں قطعی غیر تسلی بخش ہے ۔ بچوں کو پرائمری تعلیم تو کم سے کم ملنا ضروری ہی ہے لیکن غالباً ۷۰ فیصد بچے پرائمری تعلیم سے محروم ہیں۔ جن گھروں میں یہ بچے کام کر رہے ہیں وہ ان کی تعلیم و تربیت پر مطلق دھیان نہیں دیتے۔ کیونکہ اگر وہ دھیان دیں گے تو ان میں شعور پیدا ہو گا اور وہ بچے مُمکن ہے کہ ان کی گرفت سے باہر نکل آئیں، اس
سلسلے میں قانون کو موثر بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اس کے ساتھ ہی ملک میں اہل خیر حضرات کو ان کاموں کی طرف توجہ دینی ضروری ہے تاکہ آنے والی نسل کم سے کم شعوری طور پر تعلیم کی عظمت سے واقف ہو سکے اور روزمرہ کی زندگی میں سدھا لا سکے، اسلام کے نقطۂ نظر سے تو تعلیم کی فضیلت اور عظمت اور بھی زیادہ ہے۔
کاش ہمارے اہل خیر حضرات مدارس کی سے حالت سدھارنے اور ان میں بہتر تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کی اہمیت سے واقف ہوں۔ ہمارے مدارس جس طرح زبوں حالی کا شکار ہیں اور بد نظمی جس طرح ان کو گھیرے ہوئے ہے وہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے ۔ اہل خیر حضرات اگر اس طرف توجہ دیں تو یہ ملک اور قوم نیز ملت اسلامیہ کی ایک بڑی خدمت ہوگی۔

تبصرے