محبت ، کل اور آج
محبت ، کل اور آج
مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ میں محبت کے بارے کیا رائے رکھتا ہوں اور میں ہنس کے چپ ہوجاتا ہوں۔لیکن سوشل میڈیا پہ جس طرح کا مواد محبت کے نام پہ پڑھنے کو ملا اور جو غم و غصہ دیکھا تو سوچا کہ کچھ لکھوں۔ سیدھی سی بات ہے مجھے آج کل کے دور میں محبت کا وجود کہیں نظر ہی نہیں آتا محبت قدیم لوگوں کے ساتھ ہی دفن ہوگئی ہے۔ یہ غصہ فرسٹریشن ہوس طعنے بددعائیں بے راہ روی یہ سب محبت میں تو ہرگز نہیں آتا۔ محبت تو روحوں کے سکون پانے کا نام ہے چلیں میرے ساتھ ایک تصور کریں ایک سرمہ فروش ہے جو ایک لڑکی سے محبت کرتا ہے وہ سال میں ایک بار اس کی دکان پہ آتی ہے نقاب چہرے پہ ڈالے بس اس کی دو جھکی آنکھیں۔ بس ایک نظر اسے دیکھنے کو وہ سال بھر انتظار کرتا ہے کوئی اظہار نہیں کوئی عہد و پیمان نہیں۔ اسے لگتا تھا وہ اس کی محبت کو سمجھتی ہوگی اس کی آنکھوں میں کبھی تو اسے اپنی محبت نظر آئے گی۔ چند سال گزرے ایک دن وہ لڑکی اپنے باپ کے ہمراہ دکان کے سامنے سے گزرتی ہے جھکی نظروں کے ساتھ اس کی تو جیسے من کی مراد پوری ہوئی وہ اس کے والد کو جانتا ہے۔ اگلے دن وہ اس کے والد کے ہمراہ پیش ہوتا ہے مدعا بیان کرتا ہے۔ اس کے والد دیر تک اسے دیکھ کر سوچتے ہیں اور بلآخر یہ بتاتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ ان کی بیٹی کے پاس دیکھنے کو آنکھیں نہیں۔ سوچیں وہ اس کی محبت اپنی آنکھوں میں بسائے ہوئے ہیں جس کی آنکھیں ہی بے نور ہیں خیر وہ واپس چلا گیا کتنا وقت وہ صدمے میں رہتا ہے اور اگلے دن وہ پھر اس کے در پہ جا پہنچتا ہے اور اس لڑکی کے والد سے ہاتھ مانگتا ہے کہ مجھے وہ ہر طرح سے قبول ہے میں نے ان کی نیچی نگاہوں سے محبت کی ہے ان کی آنکھیں میں بنوں گا۔یہ کمی جسمانی ہے اور میری محبت روحانی ہے ۔ معجزے انہی لوگوں کے لیے ہوتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کی چاہت پہ اللہ کن فرماتا ہے۔ یہ عاشق حضرات ایک مثال دیتے ہیں شاہ جہان اور ممتاز کی کہ محبت کی نشانی تاج محل بنادیا ۔ چلیں تاریخ میں پیچھے چلتے ہیں جب شاہ جہاں شہزادے تھے ان کا نام خرم تھا اور ممتاز کا نام ارجمند جو کہ شہزادہ خرم کی سوتیلی ماں نور جہاں کی بھتیجی تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے تھے مگر خاموش محبت کیا وہ ملے نہیں ہوں گے کبھی ۔بات کرنے کے بہت سے مواقع ہوں گے مگر جب تک ایک نہیں ہوئے ہونٹوں پہ لفظ محبت نہیں آیا اور شاہ جہان بھی کون جس نے دلی میں جامع مسجد تعمیر کی تو اعلان کیا آج امامت وہ کروائے گا جس کی تہجد کبھی کذا نہ ہوئی ہو جس کی تکبیر اولٰی کبھی کذا نہ ہوئی ہو بڑے بڑے علماء کھڑے تھے مگر کوئی امامت کو نہ آیا تو شاہجہان نے خود امامت کروائی اور کہا الحمد للہ میری ان میں سے زندگی بھر کوئی کذا نہیں ہوئی ۔ یہ ہوتے ہیں انسان ۔ آج ہم بس جسموں کی بات سے آگے ہی نہیں نکل پاتے۔ صورتیں نظر آتیں اور انکے عیب اور بس۔ معاف کیجیے محبت اگر ایسی اذیت کا نام ہے تو آپ محبت کے گنہگار ہیں مت نام لیجیے اور اگر کوئی آج بھی محبت کو خاموشی اور صبر میں گزارتا ہے تو واقعی وہ محبت کے لائق ہے۔ گستاخی معاف۔

تبصرے