اسلام میں انسانی حقوق

 اسلام میں انسانی حقوق



از قلم: محمد جاوید سپولوی 

متعلم: المعھد العالی للتدریب فی القضاء و الافتاء امارت شریعہ پٹنہ

            اسلام اپنے پیروکاروں کی زندگی کو صرف عبادات مثلاًنماز، روزہ ، حج ،زکوٰة،جہاد،اور دعوت و تبلیغ تک محدود نہیں رکھتا؛ بلکہ یہ ہمیں اُس راستے پر گامزن ہونے کی ہدایت دیتا ہے جس پر انسانیت کے سب سے عظیم محسن حضرت محمد… تھے ؛ جن کی مبارک زندگی ساری انسانیت کے لیے نمونہ اور اسوہ ہے۔نبی کریم … کی حیات طیبہ کا روشن اور مثالی پہلویہی ہے کہ آپ نے صرف نماز و روزے کی تلقین نہیں کی ؛بل کہ حقوق انسانی کا جامع تصور پیش کیا،اس حوالے سے امت کو پیغام دینے کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں خود بھی کام کیا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تلقین فرمائی۔

            اسلام میں نیکی کا جو جامع تصور پیش کیا گیا ہے ؛ اس میں خدمت خلق ، حقوق انسانیت ،رہن سہن اور معاشرت بھی ایک لازمی حصہ ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں؛ بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے ، اللہ کی محبت میں اپنامال قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والے(حقیقی ضرورت مندوں)، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوة دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی متقی ہیں۔(البقرة 2:177)


            پرسکون اور اطمینان بخش زندگی گزارنے کے لیے اسلام نے انسانوں کے جذبات و احساسات کی قدردانی اور باہمی احترام و رواداری کو قائم کرنے کی قدم قدم پر تاکید کی ہے،نیز ہر ایسے عمل سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے ،جس سے انسانی جذبات مجروح ہوتے ہوں اور انسانوں کومعمولی اذیت پہنچتی ہو۔ دین اسلام میں انسانیت کو کتنا بڑا مقام دیا گیا ہے،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں پر تمام انسانوں کے حقوق متعین کیے ہیں، والدین کے حقوق، اولاد کے حقو ق، میاں بیوی کے حقوق، یتیموں کے حقوق، غیر مسلموں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق، مہمانوں کے حقوق، مسافروں کے حقوق․․․․․․․ غرض سبھی کے جملہ حقوق کا تعین کیا ہے اور ان کو پورا کرنے کی وصیت کی ہے۔

            اگر انسان آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کرے تودنیا میں فساد ضرور برپا ہوگا، مثلاً بادشاہ اور حاکم اپنے حقوق ادا نہ کریں تو رعایا کی زندگی تکالیف ومشکلات کا شکار ہوجائے گی۔ شوہر بیوی کے حقوق ادا نہ کرے تو بیوی کی زندگی دنیا ہی میں جہنم بن جائے گی، بیوی شوہر کے حقوق ادا نہ کرے تو شوہر کی زندگی کا سکون غارت ہوجائے گا، پڑوسی ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کریں تومحبت و امن کی فضا مکدر ہوجائے گی۔اسی طرح مسلم غیر مسلموں کے حقوق ادا نہ کریں تو دنیا تعصب و عناد اور فتنہ وفساد کے جنگل میں تبدیل ہوجائے گی، امیر لوگ غریبوں کے حقوق ادا نہ کریں تو غریبوں کی زندگی فاقہ کشی کا شکار ہوجائے گی، بالکل اسی طرح ماں باپ اولاد کے حقوق ادا نہ کریں تو اولاد نافرمان، باغی، دین سے دور اور والدین کے لیے مصیبت و وبال بن جائے گی اور اولاد ماں باپ کے حقوق ادا نہ کرے تو ماں باپ کو بڑھاپے میں سہارا اور سکون نہیں ملے گا؛غرضے کہ دنیا میں فساد ہی فساد برپا ہوجائے گااور امن قائم نہ رہ سکے گا، پس امن کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے وہ تمام حقوق جو اللہ تعالیٰ نے لازم کیے ہیں ادا کرتے رہیں۔یہی اسلام کی اولین تعلیم اور نبی پاک… کامقصدِ بعثت ہے، حالی مرحوم نے اس حوالے سے کیا ہی خوب کہا ہے۔


یہ پہلا سبق تھا کتاب ہُداٰ کا

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا

خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا کا

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں