آہ میری پیاری ماں! ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار ٹوٹ گئی

 آہ میری پیاری ماں!
ٹھنڈی تھی جس کی چھاؤں وہ دیوار ٹوٹ گئی 
از قلم: محمد جاوید قاسمی 



مؤرخہ: ١٠/صفر المظفر/١٤٤٥ مطابق:28/8/2023 بروز پیر دن کے دس بجے اچانک موت کا فرشتہ حاضر ہوتا ہے اور میری والدہ محترمہ کی روح نکال کر چلا جاتا ہے، میری والدہ محترمہ ہم لوگوں سے جدا ہو جاتی ہیں اور ہم سب بہنوں اور بھائیوں کو مغموم چھوڑ کر اپنے حقیقی مالک سے جا ملتی ہیں(انا للہ وانا الیہ راجعون) یہ دنیا جائے آزمائش ہے، انسان جس حالت میں ہو وہ آزمائش میں ہے, خواہ انسان مالدار ہو یا غریب ہو، خوشی میں ہو یا غم میں ہو،   جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( کل نفس ذائقۃ الموت) ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، ہم تم کو تکلیف اور آرام کے ذریعے آزمائیں گے اور تم ہماری طرف واپس لاۓ جاؤگے ؛ پس انسان کو ہر وقت ، ہر لمحہ چوکنا رہنا چاہیے اور خوف و رجاء میں زندگی بسر کرنی چاہئے اور اللہ تعالٰی سے موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق مانگنی چاہیئے- 
ماں، ماں ہوتی ہے ، خواہ جوان ہو یا بوڑھی ، اس کا سایہ بچوں کے لئے ایسی نعمت ہے جس کی کوئ بدل نہیں، زندگی کے مختلف مرحلوں میں ایک سہارا اور رحمت کا سایہ ہوتی ہے ، بچے ان کے آنچل میں ایک عجب قسم کی ٹھنڈک اور سکون محسوس کرتے ہیں، بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کے سب ان کی دعاؤں کے محتاج ہوتے ہیں ، اور ان کے تجربات اور مشورے سے فائدہ اٹھاتے ہیں -
آج میں اس قیمتی نعمت سے محروم ہو گیا ہوں، ان کی یادیں تڑپاتی اور رلاتی ہیں ، رہ رہ کر میری آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں ، کسی سے اس موضوع پر باتیں نہیں کر پاتا ہوں ، اس موقع سے جبکہ کچھ اپنے آپ کو سنبھالا ہوں تو اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے کچھ دلی کیفیات و تاثرات قلم بند کرنے کے لئے بیٹھا ہوں ، لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن تسلسل ٹوٹ جاتا ہے، اس مناسبت سے والدہ محترمہ کی بعض خصوصیات ذکر کرنے جا رہا ہوں ، تاکہ " اذکروا محاسن موتاکم " اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو ، پر عمل ہو جاۓ اگر ان خوبیوں کو دوسرے احباب اپناتے ہیں تو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہو جاۓ گا - 
میری ماں کی نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتی تھیں ، دوسری خوبی خودداری کی تھی، وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتی تھیں، یہاں تک کہ اپنے اولاد سے بھی استغناء برتی تھیں، فاقہ کشی برداشت کر لیتیں لیکن دست سوال نہیں پھیلاتیں، ہاں اگر اولاد میں سے کوئی کچھ دیتا تو اسے وہ قبول کر لیتیں-
وہ باہمت خاتون تھیں، موت سے نہیں ڈرتی تھیں ، البتہ آخری وقت میں تین سالوں سے بیماریوں نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ، انتقال سے کچھ روز قبل بات ہوئی تھی ، ذہن میں بھی نہیں آیا تھا کہ یہ میری آخری گفتگو ہوگی والدہ سے اور ہمیشہ کے لئے ہم لوگوں سے جدا ہو جاۓ گی ، اس کے بعد کبھی ان سے بات نہیں ہو پائے گی- اے کاش اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ایسا  ہونے والا ہے  تو کچھ دیر اور باتیں کر لیتا بلکہ باتیں کرتا ہی رہتا، سلسلے گفتگو ختم ہونے نہیں دیتا- بس آخری میں یہی کہنا پڑتا ہے جتنا کہ قرآن کریم نے کہنے کا حکم دیا ہے ، ( انا للہ وانا الیہ راجعون)  اللہ رب العزت والدہ محترمہ کی بال بال مغفرت فرماۓ ، ان کے سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے ، ان کی قبر کو منور و کشادہ فرمائے ، اپنی جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے ، غریق رحمت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے ، پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین ثم آمین
x

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں