فیس بک دوستی ، لڑکی اور محبت : ایک لڑکی کی کارگزاری

 فیس بک دوستی ، لڑکی اور محبت : ایک لڑکی کی کارگزاری



 میں کالج کے امتحانات سے فارغ ہوئی تو بوریت کا شکار تھی ، گھر کا ماحول بھی تھوڑا سخت تھا ، آزادانہ گھومنے پھرنے کی پابندی تھی تو سوچا کیوں نہ وقت گزاری کیلئے فیس بک جوائن کر لوں ، پھر کیا بتاؤں بس یوں سمجھو کہ امی سے کئی بار ڈانٹ بھی کھائی مگر فیس بک تو جیسے میرا اوڑھنا بچھونا ہی بن گئی۔ ہے تو غلط بات مگر وقتی طور پر مجھے اچھا لگا۔ 

لڑکوں کی توجہ پانا اور تعریفی کلمات سننا لیکن چونکہ میں ایسے ماحول کی عادی نہیں تھی تو مجھے جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہونا شروع ہو گیا ۔ جب میں نے دیکھا کہ میری ہر پوسٹ پر بیشمار کمنٹس آتے تھے ، کبھی کوئی محبت بھری شاعری میں ٹیگ کر رہا ہو تا تو کبھی کوئی ان باکس میں چاہت کا اظہار کر رہا ہوتا ، ڈیٹس کی آفر کر رہا ہو تا کئی ٹھر کی حضرات نے تو بنا دیکھے شادی کی پیشکش بھی کر دی مگر مجھے امی کی وارننگ یاد تھی کہ میں نے تمہاری تربیت میں کوئی کمی نہیں کی ہے ، اچھے اور برے کی پہچان سکھا دی ہے ۔ اب میں 24 گھنٹے تمہاری چوکیداری نہیں کر سکتی ، بس ہمارا اعتبار کبھی نہ توڑنا ! امی کی باتیں سمجھ تو آتی تھیں مگر فیس بک کا چارم ساری نصیحتیں بھلا دیتا تھا ، سوچتی تھی کہ وقت گزاری ہی تو ہے بس، میں کونسا کسی سے زیادہ فری ہوتی ہوں جو پریشانی ہوں۔

مگر پھر یوں ہوا کہ ایک لڑکا جو بظاہر بہت مہذب تھا مجھے سچ مچ اچھا لگنے لگا ، بقول اس کے اسکی ساری توجہ کا مرکز صرف میں تھی ، میں اسکی خوبصورت باتوں کے جال میں آگئی اور اس پر بھروسہ کرنے لگی ، میں اس سے ابھی تک ملی نہیں تھی مگر مجھے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میں اسے ہمیشہ سے جانتی ہوں اور وہ جیون ساتھی بننے کیلئے بہت موزوں ہے ، موقع دیکھ کر امی سے بات کروں گی اسکے بارے میں !لیکن آھستہ آھستہ اسکی بے تکلفیاں بڑھنے لگیں ، اسکی ذو معنی باتیں مجھے پریشان کرنے لگی تھی ، ایک چبھن سی تھی جو اندر کو چوبتی رہتی تھی ، میں اب اس سے ناطہ ختم کرنا چاہتی تھی مگر وہ خود کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر مجھے روک لیتا تھا۔ !! 

پھر اچانک ایک دن شام کے وقت اس نے مجھ سے ملنے کی فرمائش کی ، میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ایک تو رات کو ملنا ہی غلط دوسرا کسی رشتے کے بغیر ہمارا ہی نہیں بلکہ ہر لڑکے اور لڑکی کا تنہا ملنا ٹھیک نہیں ، میرا انکار سن کر وہ تھوڑا اکھڑ سا گیا کہ کیا یار ؟ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ، کوئی کھا تھوڑی جاؤں گا ، تم بھی نا ، بس حد کرتی ہو میں نے نرمی سے کہا کیونکہ یہ غلط ہے ، جب دو لڑکا لڑکی اکیلیے ہوں تیسرا شیطان ہمیشہ بیچ میں رہتا ہے وہ بولا غلط ہے تو فیس بک جوائن کیوں کی تھی ؟ ؟ بیٹھتی نا پر دے میں ، یہاں تو یہی کچھ ہوتا ہے !میں نے بھی غصے میں جواب دیا کہ فیس بک پر اگر غلط لڑکیاں آتی ہیں تو آپ بھی تو آتے ہیں ، اسکا مطلب آپ بھی برے ہیں ؟ بکواس بند کرو ، میرا طنزیہ جواب سن کر وہ تڑپ کر بولا مجھے پتا ہو تا تم ایسی ہو تو بھی تم کومنہ نہ لگا تا سالی نے ہوٹل کے کمرے کی بنگ پر اتنے پیسے ضائع کروا دئیے میرے ، اب واپس بھی نہیں ہوں گے اسکی اس بات پر میں جیسے پتھر کی ہو گئی ، نجانے کب میری آنکھوں سے دو آنسو گرے ، شائد شکرانے کے کہ میرے رب نے مجھے کسی غلیظ گھڑے میں گرنے سے پہلے ہی بچا لیا ...

میری بہنو! میں نے تو اپنا سبق سیکھ لیا کیونکہ میری سوچ کو بنانے والی میری ماں تھی ، وقتی طور پر میرے قدم لڑکھڑائے ضرور مگر الحمد للہ میرے اللہ نے مجھے بر وقت بچالیا اب آپ سب لوگوں سے درخواست ہے کہ فیس بک یا نیٹ کا غلط استعمال نہ کریں پلیز ! نیٹ پرملنے والا ہر شخص شریف نہیں ہوتا، تنہائی میں کبھی کسی مرد کو نہ ملیں ، خود کو برباد ہونے سے بچائیں ۔ آپ لوگ یہاں محبت کا کھیل نہ کھیلیں ۔ 

اگر ملن ممکن ہو تو نکاح کا حلال رشتہ جوڑیں ، حرام کاری جیسے گناہ سے بچیں! جو لڑکا آپ کی صحیح معنوں میں عزت کرتا ہوگا وہ باعزت طریقہ سے آپ سے رشتہ جوڑے گا ۔ اپنے فارغ وقت کو کچھ اچھا سیکھنے میں صرف کیجئے! انٹر نیٹ پر پیار محبت یہ سب دقیا نوسی باتیں ہیں ، نہ تو پیار ایسے ہوتا ہے نہ ہی دوستی !! یہ سب خیالی دنیا ہے اور حقیقت بہت مختلف ہوتی ہے ۔۔!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں