آخر کیوں ہوا میوات میں تشدد ؟

 !!!...آخر کیوں ہوا میوات میں تشدد...!!! 

✫✍︎...از قلم: زید سلّمہ ممولاکا پلول ہریانہ (میوات)

شریک دورۂ حدیث شریف 

متعلم: دارالعلوم زکریّا دیوبند



علاقۂ میوات کی امن و شانتی، صلح و آشتی، اور بھائ چارگی، کے نام سے شناسائی ہوتی رہی ہے ہمیشہ سے تبلیغ کا گڑھ رہا ہے، اس خطے میں کچھ غیر قوم بھی  آرام کی سانس لے رہی ہیں، مثلاً، جاٹ، گجر، اہیر، برھمن، جو کہ غیر مسلم ہیں،  تاریخ گواہ ہے، کتابوں کے ورق شاہد، ہیں اس علاقے میں اس تشدد سے قبل کوئ تشدد نہیں ہوا، اس تشدد کی بنیادی وجوہات کچھ آپ کے زیر نظر کردوں، ۳۱ تاریخ کو ایک ویڈیو وائرل ہوتا ہے ایک منحوس، لعین مونو مانیسر نامی خبیث کا جو کہ اہلِ میوات کی آنکھوں میں غصہ کا باعث ہے، یہ بندہ خود کو ٹناٹن(سناتن) دھرم سے متعلق کہتا ہے  یہ دھرم اس سے پہلے لوگوں نے غالباً نہ سنا ہوگا کیونکہ اس کے موجد بجرنگ دل کے یہ ہی بدنامِ زمانہ لوگ ہیں، اس دھرم نے  حالیہ سرکار بی جے پی کے زیر اقتدار ہونے کے بعد جنم لیا ہے یہ لوگ خود کو گائے کے پجاری کہتے ہیں حالانکہ اس بات کا حقیقت سے کوئ سروکار نہیں ہے تو تشدد کی بنیاد اس طرح پڑی کہ ہمارے علاقۂ میوات میں گائے کا گوشت لوگوں کو بہت مرغوب ہے اب اس بد کرادر  دل یعنی بجرنگ دل کے افراد کو جب اس بات کا علم ہوا تو ان لوگوں نے گؤ رکشا(گائے ماتا کی حفاظت) کے نام  پر میوات کے لوگوں کو نشانہ بنانا شروع کیا اور حد کچھ اس طرح پار کی کہ جو شخص بھی ان کے ہتھے چڑھا  اس نے زندگی کو الوداع کہا، گزشتہ چند سالوں میں یہ لوگ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ وار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارتے رہے ہیں  اور دیگر ہندو قوموں کو اس بات پار اکساتے رہے ہیں کہ مسلمانوں سے بھائ چارگی ختم کرو کیونکہ یہ لوگ ہماری گائے ماتا کے گوشت سے شکم سیری کرتے ہیں، الغرض ان سے میوات کا ہندو مسلم  بھائ چارہ ہضم نہ ہوا،  گزشتہ سال  دو میواتی بھائ مرحوم جنید و ناصر جوکہ میوات کے گاؤں گھاٹمیکا سے تعلق رکھنے والے تھے کہیں کے لئے عازم سفر تھے  سوئے قسمت کہ وہ دونوں مرحوم بھائ اس متحرک شرپسند ٹیم کے ہاتھ لگ گئے اور ان کی ضرب شدید اور آتش زنی نے ان کو خاک آلود کر دیا،  اس سنگین معاملہ کے پسِ پردہ اُسی کتّے کے بچے مونو مانیسر کا ہاتھ تھا، خیر مرحومین کو لاکھ کوششوں کے باوجود انصاف نہ مل سکا اور نہ ہی ظالموں کی سرکوبی کی جا سکی،، البتہ اس معاملہ کے بعد اہلِ میوات کے دلوں میں اس ٹیم یعنی بجرنگ دل سے مقابلہ کی آگ روشن ہو گئ،، کیونکہ پانی سر سے اوپر ہو گیا تھا نہ،، تو ایک مثال ہے جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ گاؤں کی طرف بھاگتا ہے، ایسا ہی کچھ بجرنگ دل کے ساتھ ہوا،۳۱ تاریخ کو یہ دستہ علاقۂ میوات کے نوح ضلع سے اپنی فتنہ فسادی کارروائی کا آغاز کرتا ہے اور مسجد کے سامنے جے شری رام کی نعرے  بازی کرتا ہے،جس کی بناء پر اہلِ علاقہ ان  پر پتھراؤ شروع کر دیتے ہیں، جس سے ان کو منہ کی کھانی پڑی، اور یہ لوگ بمشکل اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے، ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا، بفضلہٖ تعالیٰ ان کا وہ علاج ہوا ہے کی یہ لوگ اب  میوات جانے سے قبل سو بار سوچنے پر مجبور ہونگے،،، فی الوقت بھی حالات سازگار نہیں ہیں بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہوں کہ ربّ کریم تمام امت مسلمہ کو اور خصوصاً ہمارے علاقہ میوات کے مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان رکھے،،،، آمین   



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں