تحریک ریشمی رومال کی اہم کڑی "مولانا عبید اللہ سندھیؒ"

  تحریک ریشمی رومال کی اہم کڑی "مولانا عبید اللہ سندھیؒ" جنہوں نے تحریک آزادی کو ایک نئی جہت عطا کی 



   مولانا عبید اللہ سندھی مغربی پنجاب کے ضلع سیال کوٹ میں 1289ھ   میں پیدا ہوئے اُن کے والد ہندو سے سکھ ہو گئے تھے مولانا سندھیؒ نے ابتدائی تعلیم جام پور کے مڈل اسکول میں پائی، دوران تعلیم ہی میں اپنے مطالعہ سے صداقت اسلام سے متاثر ہو کر مشرف با سلام ہو گئے تھے، قبول اسلام کے بعد جام پور سے سندھ چلے گئے، وہاں حافظ محمد صدیقؒ کی خدمت میں کچھ مدت قیام کیا ، حافظ صاحب ایک بڑے صاحب نسبت بزرگ اور درویش کامل تھے ، مولانا سندھی نے اپنی ذاتی ڈائری میں لکھا ہے کہ " حافظ صاحب کی صحت کا اثر ہوا کہ اسلامی معاشرت میری طبیعت  ثانیہ بن گئی"۔ مولانا سندھیؒ 1306ھ میں دارالعلوم میں داخل ہوئے اور 1307 ھ میں دورہ حدیث میں شریک ہوئے مگر تکمیل کی نوبت نہیں آئی ، کچھ عرصے کے بعد سندھ چلے گئے ، 1315 ھ میں  پھر دیوبند تشریف لائے اور اپنے استاد حضرت شیخ الہندؒ سے کتب حدیث کی اجازت حاصل کی، تعلیمی امور کے ساتھ سیاسی مشاغل میں بھی حضرت شیخ الہند سے وابستہ ہو گئے ، 1327 ھ میں دارالعلوم میں جمعیۃ الانصار کا قیام انہی کی کوشش کا نتیجہ تھا ، مولانا سندھیؒ اس کے ناظم بنائے گئے ، جمعیۃ الانصار کے دو بڑے جلسے جو مراد آباد اور میرٹھ میں منعقد ہوئے تھے ، مولانا سندھیؒ ہی کی جدوجہد کا نتیجہ تھے، آپ دارالعلوم کو سیاسی اندازسے ملی تنظیم کا مرکز بنانا چاہتے تھے جس کا پہلا نقش جمعیۃ الانصار کا قیام تھا، اسی دوران  مولانا سندھیؒ اور دارالعلوم کے بعض اس اساتذہ کے مابین بعض علمی مسائل میں شدید اختلاف رونما ہو گیا، جس کے سبب ان کو دیوبند چھوڑنا پڑا، حضرت شیخ الہندؒ نے ان کو دہلی بھیج دیا وہاں انھوں نے نظارة المعارف القرآنیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جس کے سر پرستوں میں حضرت شیخ الہند کے علاوہ حکیم اجمل خان دہلوی اور نواب وقار الملک جیسی مقتدر شخصیتیں شامل تھیں۔ 1333 ھ میں حضرت شیخ الہندؒ نے مولانا سندھیؒ کو افغانستان بھیجا اُس وقت یہ خیال عام تھا کہ طاقت کے بغیر انگریزوں کو ہندستان سے نکال دینا ممکن نہیں ہے، اس کے لیے سپاہ اور اسلحہ کی ضرورت ہے، اس تحریک کا مرکز حضرت شیخ الہندؒ نے یاغستان کے آزاد علاقے کو بنایا تھا مولانا سندھیؒ نے کابل پہنچ کر متعدد اہم سیاسی کام انجام دیے کابل میں کانگریس کمیٹی قائم کر کے انڈین نیشنل کانگریس سے اس کا الحاق کیا ، بر طانوی مقبوضات سے باہر یہ پہلی کانگریس کمیٹی تھی ، اسی کے ساتھ انھوں نے "حزب اللہ" کے نام سے ایک فوج مرتب کی ، افغانستان میں راجہ مہندر پرتاپ کی سربراہی میں جو آزاد حکومت قائم کی گئی تھی اس کے ایک اہم رکن رہے، حضرت شیخ الہندؒ کی حجاز میں گرفتاری کے بعد روس چلے گئے اور وہاں رہ کر سوشل ازم کا مشاہدہ کیا 1356 ھ مطابق 1923ء ھے میں ترکی کا سفر کیا اور وہاں سے 1344 ھ میں حجاز چلے گئے ، جہاں چودہ سال کے قریب مقیم رہے 1356ھ مطابق 1937ء میں جب صوبوں میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی تو یوپی کی حکومت نے مولانا سندھیؒ سے برطانوی دور کی پابندی کو اٹھا لیا اور وہ 1358ھ مطابق 1939ء میں ہندستان واپس آگئے۔ 

جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور ریاست بھاول پور کے قصبہ دین پور میں انھوں نے زندگی کے آخری لمحات بسر کئے مولانا سندھیؒ عہد حاضر میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے فلسفہ کے سب سے بڑے داعی اور علم بردار تھے ، قرآن ، حدیث ، فقہ اورت صوف سے متعلق علوم میں شاہ صاحبؒ نے جو تجدید فرمائی ہے ، مولانا سندھیؒ اس کے ایک عظیم شارح تھے، ہر چند اُن کے بعض افکار سے اہل علم کو اختلاف بھی رہا، مگر اختلاف رائے کے باوجودان کی علمی فضیلت اور سیاسی سوجھ بوجھ کے سب ہی قائل تھے۔

" حکمت ولی الہی" کی روشنی میں کتاب و سنت کی تشریح اور عہد حاضر کے مسائل کا حل نکالنے کے لئے ہی انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بیت الحکمہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور بعض معرکتہ الآرا مضامین بھی لکھے، جن میں الفرقان کے شاہ ولی اللہ نمبر کا مضمون بڑا عمیق اور فکر انگیز ہے.

21/ اگست 1944ء مطابق 1363ھ کو دین پور ہیں جہاں مولانا سندھیؒ آخر عمر میں مقیم ہو گئے تھے انتقال فرمایا ، افسوس ہے کہ جس ملک کی آزادی کے لیے انھیں 25 سال ہندستان سے جلا وطن رہ کر مصائب و آلام کی زندگی گزارنی پڑی، اس ملک کو اپنی زندگی میں آزاد نہ دیکھ سکے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سال نو کے بدترین مفاسد اور ہماری ذمہ داریاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں

طریقۂ نماز عیدین

لڑکیوں کی تربیت سے متعلق ضروری باتیں