مذہبی اور تخلیقی جنسیت پر نکاح کا مدار
مذہبی اور تخلیقی جنسیت پر نکاح کا مدار
✍️ : محمود اختر کیفی
تخصص فی الافتاء دارالعلوم وقف دیوبند
دین اسلام ایک ایسا عادلانہ اور انصاف پسند دین ہے جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ تمام شرعی قوانین و ضوابط کا ضامن ہے ، جن میں نہ تو افراط ہے اورنہ ہی تفریط ۔ بلکہ شریعت اسلامی عین فطرت کے مما ثل ہو کر ان کی بھر پور رعایت کر تے ہوئے ہر دم اعتدال اور میانہ روی کے پہلو ئوں کو اپنایا ہے ، تاکہ بشری زندگی سے وابستہ تمام تر شعبہائے زندگی بالخصوص عائلی اور فطری مسائل میں مکمل طور پر انسانوں کی صحیح رہنمائی کی جا سکے ، جن میں بنیادی طور پر نکاح، طلاق ، کفالت ، جنسیت ، رضاعت ، مصاہرت ، ایلاءاور ظہار کے مسائل ہیں ۔
مذکورہ تمام شعبوں میں سب سے اہم ترین شعبہ بشکل نکاح جنسی ہیجان اور خواہشات کی بنیاد پر باہمی اختلاط کا ہے ، جس میں ذہنی اور جسمانی تسکین کے ساتھ بقائے نسل ، انسانی توالد و تنا سل کے عروج و ارتقاء اور ان کی بیشتر حکمتیں مضمر ہیں ۔
زیر بحث بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عقد نکاح کے تحقق اور اس کے اتمام کے لیے نکاح کےدیگر ارکان و شرائط کے ساتھ بالخصوص حسی و مذہبی جنسیت کو معیار و مدار بنانا بہت ضروری ہے ۔ چاہے مذہبی طور پر اتحاد جنس کے تعلق سے ہو یا پھر حسی اور تخلیقی اختلاف جنس یعنی مرد و عورت ہو نے کے اعتبار سے ہو ۔
شریعت اسلامی کا مسلمہ اصول اور ضابطہ رہا ہے کہ جہاں کہیں بھی فطرت سلیمہ کے خلاف اور اس سے چھیڑچھاڑ کی بنیاد پر ان تمام مضرات اور منفی نتائج سے پہلے ہی ان کے اسباب پر قدغن لگانے کی بھرپور کوشش کرتی ہے او ر ان فتنوں کی مکمل بیخ کنی کر تی ہے ، تاکہ سماجی اور معاشرتی زندگی میں مکمل تہذیب و تمدن کے ساتھ باہمی اختلاط کو استوار رکھا جا سکے ۔
نکاح کے اسباب میں جہاں بہت سے موانع نکاح بتلائے گئے ہیں وہاں بنیادی طور پر دو ممانعت بہت ہی اہمیت کا درجہ رکھتی ہے ، پہلا یہ ہےکہ کیا کوئی مذہبی جنس کے اختلاف پر کسی سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟ جیسے بت پرست ، آگ پرست و غیرہ
دوسرا یہ ہے کہ کیا کوئی غیر فطری راہ اپنا کر تخلیقی طور پر ہم جنس سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں ؟ جیسے مذکر مذکر سے یا مؤ نث مؤ نث سے ، جس کو موجودہ دور میں ہم جنس پر ستی سے تعبیر کی جاتی ہیں ۔
تو شریعت کا اس سلسلہ میں اہم نقطۂ نظر اور اصول یہ ہے کہ نکاح کے تحقق اور اس کے انعقاد میں پہلا مذہبی جنسیت کی یکسانیت ضروری ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ عاقدین کا مذہب ایک ہی جنس کا ہو یعنی دو نوں عاقل ، بالغ اور مسلمان ہوں ، لیکن اگر کوئی موحد غیر موحدہ یعنی بت پرست و غیرہ سے شادی کر نا چاہے تو شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی ہے ، کیوں کہ اس سے نکاح کے دیگر اغراض و مقاصد اور بہت سے مصالح مفقود ہو تے نظر آتے ہیں ، نیز کتابیہ سے نکاح کرنے کو فقہاء نے اس شرط پر جائز قرار دیاہے کہ وہ تو حید پرست ہو جو اپنی اصل کتاب کا مکلف اور پابند ہو ، جبکہ دور حاضرمیں یہ بھی رواں نہیں ہے کہ کوئی یہودیہ اور نصرانیہ سے نکاح کرے ، کیوں کہ نہ تو ان کی کتابیں اپنے اصل پر محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کا مذہبی نشخص بر قرار ہے ۔
دوسرا نقطۂ نظر اور فلسفۂ نکاح یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی بشری فطرتوں سے عبور کرتے ہوئے نہایت ہی جعلی آزادی اور سطحیت کا شکار ہو کر ہم جنس سے نکاح نہیں کر سکتا ہے ۔ یعنی نہ تو باہمی دومردوں کی شادی ہو سکتی ہے اور نہ ہی دونوں عورتوں کے مابین اس عمل کو انجام دیا جا سکتا ہے ، کیوں کہ یہ مقاصد شریعت کے خلاف ہو نے کے ساتھ خود فطرت انسانی اور عقل انسانی کے خلاف ہے جو کہ نہایت ہی و اہیات سے پر غیر معقول اور غیر انسانی حرکت معلوم ہوتی ہے ، جس کی شریعت میں کوسوں دو ر تک کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔
یہ بخوبی جاننا چاہیے کہ شرعی روسے نکاح کا مقصد فقط جنسی اختلاط اور نفسانی خواہشات کی تسکین نہیں ہے ، بلکہ ازدواجی زندگی نوع انسانی کو عفت و پاکدامنی کی زندگی فراہم کر کے اولاد کی تربیت اور تحفظ نسل کی شکل میں ان کے عروج و ارتقاء اور انسانی شرافت کا ضامن ہوتی ہے اور سماج و معاشرہ میں صلاح و فلاح کا دینی رخ پیدا کرنے اور خوشگوار ماحول قائم کرنے کے ساتھ انہیں ہر اعتبار سے صالحیت بخشنے میں پیش پیش اور کوشاں رہتی ہے ۔
شریعت نے جنسیت کو معیار بنا کر ا ن کے مجال اور مذاق کے اعتبار سے مختلف ذمہ دار یاں عائد کی ہیں تاکہ ہر کوئی بخوبی اپنی اصلیت اور حقیقت و ماہیت کو دیکھ کر اپنی ذمہ دار یوں کو سنجیدگی سےلے ۔
یہی وجہ ہے کہ مر د جن امور کی صلاحیت و لیاقت رکھتا ہے وہ امور عورتیں انجام نہیں دے سکتی ہیں اور عورتیں جن کا موں کے لیے مختص ہیں وہ مر دوں کے مجال سے پر ے ہیں ، جیسے بچے کی ولادت کا مسئلہ ہے اور اس کے پس پر دہ سبب و لادت کا مسئلہ ہے دو نوں میں مرد و عورت کا کر دار مختلف طریقے پر ہے ، جس سے اختلاف جنس پر مبنی ازدواجی زندگی کا مقصد اور اس کی حکمت عملی بخوبی واضح ہوتی ہے ۔
تا ہم اگر کوئی جنس واحد کی بنیاد پر یعنی نرنر سے ، مادہ مادہ سے ازدواجی زندگی قائم کر تا ہے تو یہ عین حماقت ہو گی اور بہر صورت شرعی رو سے یہ نکاح باطل سمجھا جائے گا، نیز یہی معاملہ خنثی مشکل کا ہے ، یعنی جب تک ان کی جنسیت مکمل طور پر واضح نہ ہوجائے اس وقت تک نکاح مو قوف سمجھا جائے گا ، مگر خنثی مشکل کی صورت میں سرے سے نکاح کا تحقق نہیں ہوگا ، کیوں کہ نکاح کے تحقق کے لیے محل کا ہونا ضروری ہے ، جبکہ مذکورہ دونوں صورتوں میں نکاح کی محلیت نہیں پائی جا رہی ہے ۔
یہ محض روشن خیال اور آزاد پسند لوگوں کی خامہ فرسائی ہے ، جو خود پسندی اور اظہار رائے کی آزادی کی بنیاد پر ’’ میرا جسم میری مرضی‘‘ کی نعرہ بازی اور اس کا گھنائونی فلسفہ سمجھاتے ہوئے سرخیوں میں نظر آتے ہیں ، جیسا کہ ماضی قریب میں پاکستان اور ہندوستان سمیت کئی ممالک میں اس نعرے کی صدائیں گونجنے لگیں اور افسوس کہ چند ممالک میں ہم جنس کی شادی کو قانونی درجہ بھی دے دیا گیا ہے
اور ملک ہندوستان میں بھی اس قضیہ پر ایک مدت سے بحثیں ہوتی رہیں ، فکرآزادی اور مغربی تہذیب سے کافی متأثر زدہ ایک طبقہ ہر ممکن اس فعل قبیح کی تشکیل و ترویج اور قانونی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہا ، اس کے نفاذ کے لیے احتجاجات ہو تے رہے ،ناشائستہ نعرے بازیاں ہوئیں بالآخر دبے الفاظ میں ہم جنس کی شادی کو قانون منظوری حاصل ہو گئی ، جو ایک مستقل تاریخ کا سیاہ باب سمجھاجائے گا او ر انسانیت سے شرمسار اس غیر فطری عمل کو ہندوستانی قانون کا حصہ بنانے کے تعلق سے وقت کے دانشوران سے ہمیشہ سوال کیا جائے گا کہ گنگا جمنی تہذیب کے اقدار وروایات کیا یہی تھیں؟ لہٰذا تاریخ کبھی نہ کبھی اس کا جواب لے کر رہے گی ۔۔۔
مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ شریعت اسلامی نے ان تمام غیر انسانی اور غیر فطری راہوں کا سد باب اس حکمت عمل کے ساتھ ان کے تمام دواعی پر اس طرح قدغن لگاتا ہے کہ دیگر مذاہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی ہے اور جس کا مقصد فقط یہ ہو تا ہے کہ حضرت انسان کسی بھی طرح اپنی فطرت کا استحصال نہ کرے ۔
یہی وجہ ہے کہ حضرات فقہاء نے ان تمام مفاسد کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ امرد، مراہق ، قریب البلوغ اور بے ریش بچوں کو اپنے قریب نہ کیا جائے ، ان سے جسمانی خدمت نہ لی جائے ، تنہائی میں ان کے ساتھ ہم نشینی سے گریز کیا جائے ، ان کے ساتھ بغیر کسی خلا اور حائل کے ایک ہی بستر میں نہ سویا جائے اور بھی ان کے علاوہ دیگر دواعی ہیں جن سے احتراز لازمی ہے ؛ کیوں کہ مذکورہ اسباب کی بنیاد پر مختلف فتنے و جود میں آتے ہیں اور نتیجتا فطری جذباتیت کا شکار ہو کر طوفان انگیز فتنوں سے بچنا مشکل تر ہوجاتا ہے ۔۔۔
لہذا ان تمام نقطہائے نظر سے شریعت کے بارے میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ کس طرح شریعت نے فطرت سے ہم آہنگ بشری تقاضوں اور ان کی ضروریات کی تکمیل کے لیے اصول و ضوابط تشکیل دی ہے تاکہ نسل انسانی کا معیار ، اس کے اہداف و مقاصد اور اس کے تشخصات کو محفوظ رکھا جا سکے ،تاکہ سماج و معاشرہ میں انسانی غیرت و حمیت کی بقاء کے ساتھ ہر سمت حسب و نسب اور عزت و شرافت کا بول بالا ہو جہاں ایک اچھی تہذیب و تمدن کی تشکیل اور قوم کے لیے خوب صلاح و فلاح ہو ۔۔

تبصرے